انوارالعلوم (جلد 1) — Page 55
بغیر مزاحمت یا جھگڑے کے نہیں کر سکتی جیسا کہ ایک قوی آدمی پر جب بیماری کا حملہ ہو تا ہے تو اس کی طاقت اور بیماری میں ایک سخت جنگ ہوتی ہے اور اس کے بعد جسم کا غلبہ ہو تاہےوہی انسانی مزاج پر حاوی ہو جاتی ہے۔پس اسی طرح خدا اور مادہ میں ایک جنگ ہونی چاہئے تھی اباگر یہ جنگ نہیں ہوئی تو مادہ اور روح ازل نہیں ہو سکتے۔اور اگر ہوئی ہے تو علا وہ اس کے کہ خدا کی طاقتوں اور صفتوں پر ایک سخت دھبہ آتا ہے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک معین وقت ہے۔کیونکہ جنگ کا ہونا اور پھر ایک کا دوسرے پر غلبہ پانا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔اور اس کے بعدپرمیشور کا جوڑنے جاڑنے کا کام کرنا ایک وقت محدود ہو جاتا ہے جو کہ خود آریہ کے عقیدہ کےبر خلاف ہے اور در حقیقت بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ دہریت کا پیش خیمہ کھڑا کیا ہے ورنہ آریہ مت کوئی مذہب نہیں کیونکہ جب خدا بھی ازلی ہوا۔پھر روح بھی ازلی ہوئی اور مادہ بھی ازلی ہوا۔اور ان میں اتصال کی طاقت بھی ہے تو باقی خدا کا کام کیا رہ گیا۔اور یہ اس بات کی پکی دلیل ہے کہ آریوں نے اپنے پرانے مذہب کو تباہ کرنے کے لئے ایک قدم ترقی کی ہے اور انہوں نے خیال کیا کہ اگر شروع میں ہی دہریت ظاہر کی تو ہندو پیچھے پڑ جائیں گے اور بنا بنایا کام بگڑ جائے گا پس اس صورت سے قدم بڑھانے چائیں کہ ہندوؤں کو خبر نہ ہو اور کام بھی ہو جائے اور اس بات کےثابت کرنے کے لئے مجھے کوئی بڑی دلیل دینے کی ضرورت نہیں بلکہ خود یہ مسئلہ بھی میرے دعویٰ کی تائید کرتا ہے کہ خدامادہ اور روح تینوں ازلی ہیں اب خدا کا کام تو صرف اتنا رہ گیا کہ ان کو جوڑہے مگر ساتھ ہی پھران میں بھی جڑنے کی طاقت ہے اب صرف ان کو ایک قدم اور چلنا ہو گا اور پھریہ دہریوں میں جائیں گے۔وہ یہ کہ خدا نے جوڑا بھی نہیں بلکہ خود بخود یہ چیزیں جڑ گئیں کیونکہ ان میں قوت اتصال خودہی تھی۔اور اب بھی یہ کوئی مذہب نہیں رکھتے بلکہ صرف قومیت کے لئےانہوں نے ایک مذ ہب بنارکھاہے۔ورنہ ان کے خیالوں میں جو کچھ ہے وہ صرف یہ چند روزه دنیاوی ترقی ہے اور اس کے بعد ان کا کوئی عقیدہ نہیں کہ کوئی دوزخ یا بہشت ہے دوزخ تو انہوں نے تناسخ کے پھیر کا نام رکھا ہے اور بہشت وہ جب اس پھیر سے نجات ملے٭مگر خود ان کا ایک عقیدہ ہی تناسخ کا رد کرتا ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ ان کا تناسخ اور پرکاش کا عقیدہ صرف زبانی باتیں ہیں ورنہ دل سے ہی اس بات کے قائل نہیں وہ عقیدہ یہ ہے کہ فلاں فلاں رات کو عورت سے محبت کرنےسے لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور فلاں فلاں میں لڑکے۔اول تو یہ عقیدہ بذات خود غلط اور عقل سے بعید ٭یہ قوم نجات کی سخت دشمن ہے کیونکہ نقاب سے نجات ملتی ممکن ہی نہیں جب ہر ایک گناہ کے بدلے میں ایک جون ضرور بھگتی پڑے گی تونجات کیسی اور پھر نجات کے معنی ہیں کامل مخلصی مگر ان کے ہاں کال مخلصی ہے ہی نہیں بلکہ خود ایک گناہ رکھ لیتا ہے تاکہ پھر انسان کو تناسخ کے پھیرمیں ڈال دے۔