انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 42

ہےتو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس سلسلہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا سچا تعلق ہے جو اوروں کے ساتھ نہیں اور ضروری اور یقینی ہو گا کہ وہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور اس کا کلام کبھی جھوٹے اور مفتی انسان یا گروہ کے شامل حال نہیں ہوتا اور اس بات کی بجث ہم اگلے حصے میں کریں گے کہ آیا الہام ضروری ہے یا نہیں اور اس وقت صرف مجملاً بیان کرتے ہیں کہ الہام ایک بڑی شہادت ہے کسی مذہب کے سچاہونے یا نہ ہونے پر مگریہودی اور عیسائی اس سےمحروم ہیں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کا دینی جسم اب الہام کا دوسرے الفاظ میں سچائی کی روح سے خالی ہے او راس قابل نہیں کہ ہماری تسلی کر سکے کیونکہ جب ہم محبت کریں گے تو فطر تاًہمارےدل میں محبوب سے کلام کرنے کا شوق بھی پیدا ہو گا۔اور اگر وہاں سے کوئی جواب ہی نہ ملے تو کیا کیا بدظنیاں ہمارے وال میں پیدا ہوں گی۔پس ہماری تسلی کے لئے یہ موجودہ یہودی مذہب تو کافی نہیں ہو سکتا۔اب ہم ہندو مذہب پر نظر ڈالتے ہیں یا یہ کہو کہ ہم سناتن و حرم کی طرف توجہ کرتے ہیں، مگر ہم اول یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مذہب کے پیروؤں کے نزدیک یہ مذہب اس وقت سے چلا آتا ہے جبکہ یہ موجودہ دنیا پیدا ہو گی اور ان کے خیال کے بموجب پر میشور نے اپنا کلام چار رشیوں پراتارا اور ان کو الہام سے مستفیض کیا مگر اس کے بعد الہام کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کرو با اور اب خواہ کوئی کتنا سر پٹکے لیکن ممکن ہی نہیں کہ وہ دروازہ کھولا جائے۔پھر ان کا یہ عقیدہ ہے کہ بتوں کی پرستش کے سوا پرمیشور کا ملنا محال ہے اور پھر یہ کہ تناسخ ہمیشہ انسان کے ساتھ ساتھ لگا رہتا ہے اورایک انسان کبھی گائے کی شکل میں اور کبھی کتے کی شکل میں اس دنیا میں بار بار آتا ہے، اب ہم جداجد امسائل پر نظر ڈالتے ہیں اول یہ کہ سب سے قدیم وید ہے اس کی تعلیم مکمل ہے اور پھر امام کی ضرورت نہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وید کاقدیم ماننا بالکل غلط ہے ، کیونکہ سب سے پرانے وید کی عمرجوہے تو وہ تین سوا تین ہزار سے زیادہ نہیں کیونکہ وید کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کالکھا ہوا ہے جبکہ آریہ ہندوؤں کو ہندوستان کے اصلی باشندوں سے مقابلہ اور جنگیں پیش آتی ہیں کیونکہ اس میں دعائیں ہیں کہ یالٰہی ہم کو فتح دے اور ہمارے دشمنوں کو ذلیل کر اور ہماری گائیں زیادہ دودھ دیں پس یہ کوئی بڑا عرصہ نہیں ہے بلکہ اگر چار ہزار سال بھی مان لیں تب بھی حضرت نوح ؑکے بعد کا زمانہ ہی ہے اور اس طرح ہندووں کا یہ دعویٰ کہ ہم اور ہماری کتابیں قدیم سے چلےآتے ہیں بالکل غلط ٹھہرتا ہے۔ہم مثال