انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 39

انعام دیئے جاتے ہیں اور وہ جو کہ بد تھا اور برائی کے سوا اور کچھ نہیں جانتا تھا یہ سزادی جاتی ہے۔مگر یہاں تو یہ بات ہی نہیں کیونکہ یہودیوں کیلئے نجات لازم ہوئی اور دوسروں کے لئے حرام پر کیا ضرورت تھی کہ حشرونشر کا دن مقرر کیا جاتا اور پھر خدا تعالیٰ کانعوذ باللہ یہ سخت ظلم ہے کہ اس نے ایک شخص کو یہودیوں میں پیدا کیا اور دوسرے کو نہیں اور باوجوداس کے کہ وہ یہودی نیک اعمال بھی نہیں کرتا اور یہ دوسرا آدمی چاہتاہے کہ میں یہودی فرقے میں داخل ہو کر نجات پاؤں۔مگر وہ جو یہودی ہے مفت میں نجات حاصل کرتا ہے اور وہ جو کہ کسی اورگروہ سے ہے بلاگناہ کے مارا جاتا ہے اگر خدا تمام دنیا کو یہودی پیدا کر تا تو بھی کچھ بات تھی کہ اس نے تمام انسانوں کو یہودی پیدا کیا تھا مگر ایک نے اپنی بد اعمالی کی وجہ سے سزا پائی اور دوسرے نے نجات مگر یہاں تو گویا کہ دھکے دے کر بنی نوع انسان کو نجات اور محبت الٰہی سے خارج کیا گیاہے۔قیامت کے دن اگر ایک انسان کہے کہ میں تو یہودی مذہب قبول کرنے کے لئے تیار تھا مگر اسے خدا تو نے اور تیرے جانشینوں اور حاکموں نے مجھ کو ایسا کرنے سے باز رکھا تو اس وقت خدا تعالیٰ کیا جواب دے سکتا ہے سوائے اس کے کہ میری مرضی میں جس کو چاہوں دوزخ میں ڈالوں اور جس کو چاہوں بہشت عطا کروں مگر یہ وہ جواب نہیں ہو سکتا کہ جس سے ایک طالب حق کی تسلی ہو سکے۔اور اس صورت میں یہودیوں کے مذہب اور اس کے خدا کی مثال اس کنویں کی سی ہوگی جس پرایک شخص کھڑا ڈول نکال رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ جو پیاسا ہے اس طرف آئے تاکہ میں اس کوشیریں اور ٹھنڈے پانی سے سیر کروں اور اس گرمی کی شدت اور سختی سے بچاؤں جو کہ سورج کی گرم اور جھلس دینے والی دھوپ سے پہنچ رہی ہے مگر جب ایک پیاسا جو کہ کئی کوس کا سفر کر تا ہوا اور ریتلے میدان اور دھوپ کی گرمی سے تکلیف اٹھاتا ہوا آیا اور اس نے اس کنویں پر کھڑےہوئے شخص کی آواز کو سن کر اور اس کے کلمات سے تسلی پاکر اس سے کچھ پانی مانگا تو اس نے اس آفت زدہ مسافر کو جھٹک دیا کہ جا اپنا راستہ لے کیونکہ یہ پانی تیرے لئے نہیں بلکہ ان لوگوں کےلئے ہے جو کہ سامنے اس بڑے گھنے اور سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھے ہیں اور جو کہ شیریں اور سردچشمہ کا پانی اچھال رہے ہیں اور بے فکری اور خوشی ان کے چہرہ سے عیاں ہے۔پس کیا کوئی شخص اس شخص کو عقلمند کہے گا جس نے کہ ایک پیاسے آدمی کو تھوڑا سا پانی پینے میں دریغ کیا تاکہ وہ پیاس کی شدت کو رفع کرنے اور ان لوگوں کو ایک ڈول دینا چاہتا ہے جو کہ خود ایک چشمہ میں پاؤں ڈالے ہوئے بیٹھے ہیں اور درخت کا سایہ ان کو دھوپ کی شدت سے بچا رہا ہے پس دیکھو کہ وہ کنواں تو وہ تعلیم ہے جو کہ یہودیوں کا خدا دیتا ہے اور وہ شخص جو پانی نکال رہا ہے وہ خود خدا ہے جو کہ نجات کیلئے لوگوں کو پکار رہا ہے اور وہ لوگ جو سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھے ہیں ces