انوارالعلوم (جلد 1) — Page 603
عَنْ اُسَا مَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ اَرْسَلَتِ ابْنَۃُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْہِ اِنَّ ابْنًالَھَا قُبِضَ فَاْتِنَا فَاَرْسَلَ یُقْرِئُ السَّلَامَ وَیَقُوْلُ اِنَّ لِلّٰہِ مَااَخَذَوَلَہٗ مَااَعْطٰی وَکُلُّ شَیٍ عِنْدَہُ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْوَلْتَحْتَسِبْ فَاَرْسَلَتْ اِلَیْہِ تُقْسِمُ عَلَیْہِ، لَیَاْتِیَنَّھَا فَقَا مَ وَمَعَہٗ سَعْدُ بُنُ عُبَادَۃَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَاُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُ فِعَ اِلیَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّبِیُّ وَنَفْسُہٗ تَنَقَعْقَعُ کَآنَّھَاشَنٌّ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ فَقَالَ سَعْدٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَاھٰذَا قَالَ ھٰذِہٖ رَحْمَۃٌ جَعَلَھَا اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِ عِبَادِہٖ وَاِنَّمَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَاءَ۔(بخاری کتاب الجنا ئزباب قول النّبی یعذّب المیّت ببعض بکاء اھلہٖ علیہ) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ کی ایک بیٹی نے آپؐ کو کہلا بھیجا کہ میرا ایک بچہ فوت ہو گیا ہے آپؐ تشریف لا ئیں۔(فوت ہو گیا سے یہ مراد تھا کہ نزع کی حالت میں ہے کیونکہ وہ اس وقت دم توڑرہا تھا)پس آپؐ نے جواب اس طرح کہلا بھیجا کہ پہلے میری طرف سے السلام علیکم کہنا اور پھر کہنا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ لے لے وہ بھی اسی کا ہے اور جو دیوے وہ بھی اسی کا ہے اور ہر چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک مقررہ مدت ہے پس چاہیے کہ تم صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید وارر ہو۔اس پر آپؓ نے (حضرت کی صاحبزادی نے) پھر کہلا بھیجا کہ آپؐ کو خدا کی قسم آپؐ ضرور میرے پا س تشریف لا ئیں پس آپؐ کھڑے ہو گئے اور آپؐ کے سا تھ سعد بن عبادہؓ اور معاذبن جبلؓ اور ابی بن کعبؓ اور زید بن ثابتؓ اور کچھ اَور لوگ تھے جب آپؐ وہاں پہنچے تو آپؐ کے پاس وہ بچہ پیش کیا گیا اور اس کی جان سخت اضطراب میں تھی اور اس طرح ہلتا تھا جیسے مشک۔اس کی تکلیف کو دیکھ کر آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے جس پر سعد بن عبادہؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ یہ کیا؟آپؐ نے جواب دیا کہ یہ رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کیا ہےاور سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحیم بندوں پر ہی رحم کر تا ہے۔یہ واقعہ اپنے اندر جو ہدایتیں رکھتا ہے وہ تو اس کے پڑھتے ہی ظاہر ہو گئی ہو ں گی پھر بھی مزید تشریح کے لیے میں بتا دیتا ہوں کہ اس واقعہ نے آپؐ کی صفتِ صبر کے دو پہلوؤں پر ایسی رو شنی ڈالی ہے کہ جس کے بعد آپؐ کے اسوہ حسنہ ہو نے میں کو ئی شک و شبہ رہ ہی نہیں سکتا۔اوّل تو آپؐ کا خلاص باللہ اس واقعہ سے ظاہر ہو تا ہے کیونکہ جس وقت آپؐ کو اطلاع دی گئی کہ آپؐ کا نواسہ نزع کی حال میں ہے اور اس کی حالت ایسی بگڑگئی ہے کہ اب اس کی موت یقینی ہو گئی ہے تو آپؐ نے کیا پُر حکمت جواب دیا ہے کہ جو خدا تعالیٰ لے لے وہ بھی اس کا مال ہے اور جو دے دے وہ بھی