انوارالعلوم (جلد 1) — Page 604
اس کا مال ہے۔رضا بالقضا کا یہ نمونہ کیسا پاک ،کیسا اعلیٰ ،کیسا لطیف ہے کہ جس قدر اس پر غور کیا جائے اس قدر کمال ظاہر ہو تا ہے پھر اپنی صاحبزادی کو نصیحت کرنا کہ صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں پر انتہا ئی درجہ کے یقین اور امید پر دلالت کر تا ہے مگر صرف یہی بات نہیں بلکہ اس واقعہ سے ایک اَور بات بھی ظاہر ہو تی ہے اور وہ یہ کہ آپؐ کا صبر اس وجہ سے نہ تھا کہ آپؐ کا دل نَعُوْذُ بِاللّٰہِ سخت تھا بلکہ صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر امید اور اس کی مالکیت پر ایمان تھا کیونکہ جیسا بیان ہو چکا ہے جب آپؐ اپنی صاحبزادی کے گھر پرتشریف لے گئےتو آپؐ کی گود میں تڑپتا ہوا بچہ رکھ دیا گیا اور آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جا ری ہو گئے۔سعد بن عبادہ ؓنے غلطی سے اعتراض کیا کہ یا رسولؐ اللہ ! یہ صبر کیسا ہے کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔آپؐ نے کیالطیف جواب دیا کہ رحم اَور چیز ہے اور صبر اَور شے ہے۔رحم چاہتا ہے کہ اس بچہ کو تکلیف میں دیکھ کر ہمارا دل بھی دکھے اور دل کے درد کا اظہار آنکھوں کے آنسوؤں سے ہو تا ہے۔اور صبریہ ہے کہ ہم اس بات پر راضی ہو جا ئیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو اسے قبول کریں اور اس پر کرب و اضطرار کا اظہار نہ کریں۔اور اللہ تعالیٰ کا رحم جذب کرنے کے لیے تو رحم کی سخت ضرورت ہے پہلے انسان اللہ تعالیٰ کے بندوں کے دکھو ں میں رحم اور شفقت کی عادت ڈالے تو پھر اس بات کا امید وار ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کی تکالیف میں اس پر رحم کرے۔غرضیکہ ایک طرف اپنے نواسہ کی وفات کا حال سن کر جو آپؐ کے بڑھا پے کی عمر کا ثمرہ تھا اور خصوصاً جب کہ آپؐ کے کو ئی نرینہ اولاد موجود نہ تھی،صبر کر نا اور اپنی لڑکی کو صبر کی تلقین کر نا اور دوسری طرف اس بچہ کو دکھ میں دیکھ کر آپ کے آنسوؤں کا جاری ہو جا نا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک قضا پر صابر تھے اور یہ کہ آپؐ کا صبر سخت دلی(نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ)کا موجب نہ تھا بلکہ آپؐ کا دل رحم و شفقت سے پُرتھا۔طہارۃ النفس۔استقلالقابل اور نا قابل انسان کی پر کھ میں استقلال بہت مدد دیتا ہے کیونکہ استقلال سے انسان کے بہت سے پو شیدہ در پوشیدہ اخلاق اور قوتوں کا پتہ لگ جا تا ہے اور مستقل اور غیرمستقل انسان میں زمین و آسمان کا فرق ہو تا ہے۔ایک ایسا شخص جو بیسیوں نیک اخلاق کا جامع ہو۔لیکن اس کے اندر استقلال نہ ہو اس کے اخلاقِ حسنہ نہ تو اس کے نفس کی خوبی کو ثابت کر سکتے ہیں اور نہ ہی لو گوں کو ان سے کو ئی معتدبہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کیونکہ اگر اس میں استقلال نہیں اور وہ اپنے کاموں میں دوام اختیار نہیں کر تا تو اوّل تو یہی خیال ہو سکتا ہے کہ اس کے نیک اخلاق ممکن ہے کہ بناوٹ کا نتیجہ ہوں۔اور دوسرے