انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 569

ٹھہرے تھے۔مدینہ کی طرف روانہ ہو ئے۔اور لوگ بھی آنحضرتؐ کےساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ آپؐ کی اونٹنی اس جگہ پر جا کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں آنحضرت ؐ کی مسجد بنا ئی گئی اور اس جگہ ان دنوں میں کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سہیل اور سہل نا می دو لڑکوں کی کھجوریں سکھانے کا مقام تھا جو یتیم تھے اور اسعد بن زرارہ کی ولا یت میں تر بیت پارہے تھے۔پس رسول اللہ ﷺ نے جب آپ ؐکی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی۔فر مایا کہ اِن شاء اللہ یہاں ہمارے رہنے کی جگہ ہو گی۔پھر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں لڑکوں کو جن کی وہ جگہ تھی بلوایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا کہ وہاں آپؐ مسجد تیار کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم آپؐ کے ہا تھ فروخت نہیں کرتے بلکہ آپؐ کو ہبہ کر تے ہیں۔مگر رسول اللہ ﷺنے ان سے بطور ہبہ کے وہ زمین لینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ ان دنوں لڑکوں نے وہ زمین فروخت کر دی۔پھر آپؐ نے وہاں مسجد بنا نی شروع کی اور مسجد بنتے وقت آپ ؐ خود بھی صحابہ ؓ کے ساتھ اینٹیں ڈھوتے تھے اور ڈھوتے وقت یہ شعر پڑھتے جا تے تھے۔یہ بو جھ خیبر کا بو جھ نہیں بلکہ اے ہمارے خدا ! یہ اس سے زیا دہ پا کیزہ اور عمدہ ہے۔اسی طرح آپؐ یہ شعر بھی پڑھتے اے خدا ! بدلہ تو وہی بہتر ہے جو آخرت کا ہو پس جب یہ بات ہے تو تُو مہاجرین اور انصار پر رحم فر ما۔اس حدیث میں آپؐ کا یہ قول کہ یہ خیبرکا بو جھ نہیں اس سے یہ مراد ہے کہ لو گ خیبر سے کھجوریں یا اور پھل پھول ٹوکروں میں بھر کر لا یا کر تے تھے۔آپؐ فر ما تےہیں کہ یہ اینٹیں جو ہم اٹھا رہے ہیں یہ اس بو جھ کی طرح نہیں ہیں بلکہ اُس میں تو دنیا کا فائدہ ہو تا ہے اور اس بو جھ کے اٹھا نے سے آخرت کا فا ئدہ ہے اس لیے یہ بو جھ اس بو جھ سے بہت بہتر اور عمدہ ہے۔اس حدیث کو پڑھ کر کون انسان ہے جو حیرت میں نہ پڑ جا ئے۔آنحضرتؐ کے ارشاد پر قربان ہو نے والوں کا ایک گروہ موجود تھا جو آپؐ کی را ہ میں اپنی جان قربان کر نے کے لیے تیار تھے مگر آپؐ کا یہ حال ہے کہ خوداپنے جسمِ مبارک پر اینٹیںلادکرڈھورہےہیں۔یہ وہ کمال ہے جو ہرایک بے تعصب انسان کو خود بخود آپؐ کی طرف کھینچ لیتا ہے اور چشمِ بصیرت رکھنے والا حیران رہ جا تا ہے کہ یہ پا ک انسان کن کمالات کا تھا کہ ہر ایک بات میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک گھر بن رہا ہے اور آپؐ اس کی اینٹیں ڈھونے کے ثواب میں بھی شا مل ہیں۔خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھتے ہیں اور مسجد کی تعمیر کر نے والوں کو لا کر دیتے ہیں۔یہ وہ عمل تھا جس نے آپؐ کو ابرا ہیمؑ کا سچا وارث اور جانشین ثابت کر دیا تھا کیونکہ اگر حضرت ابرا ہیمؑ نے خود اینٹیں ڈھو