انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 540

قتل یا قید کر لیا جا ئے۔اور اس کی زیا دہ تر وجہ یہ تھی کہ پچھلے زمانہ میں خود بادشاہ میدان جنگ میں آتے تھے اور آپ ہی فوج کی کمان کر تے تھے اس لیے ان کا قتل یا قید ہو جا نا بالکل شکست کے مترادف ہو تا تھا اور بادشا ہ کے ہا تھ سے جا تے رہنے پر فوج بے دل ہو جا تی تھی اور اس کے قدم اکھڑ جا تے تھے اور اس کی مثال ایسی ہی ہو جا تی تھی جیسے بے سر کا جسم۔کیونکہ جس کی خاطر لڑتے تھے وہی نہ رہا تو لڑا ئی سے کیا فائدہ۔پس بادشاہ یا سردار کا قتل یا قید کر لینا بڑی سے بڑی شکستوں سے زیا دہ مفید اور نتائج قطعیہ پر منتج تھا اس لیے جس قدر خطرہ با دشاہ کو ہو تا تھا اتنا اَور کسی انسان کو نہ ہو تا۔اس بات کو جو شخص اچھی طرح سمجھ لے اسے ذیل کا واقعہ محو حیرت بنا دینے کے لیے کا فی ہے عَنِ الْبَرَآءِبْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا اَنَّہُ قَالَ لَہٗ رَجُلٌ اَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ قَالَ لٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَفِرَّاِنَّ ھَوَازِنَ کَانُوْقَوْمًارُمَاۃً وَاِنَّا لَمَّا لَقِیْنَا ھُمْ حَمَلْنَاعَلَیْھِمْ فَانْھَزَمُوْافَاَقْبَلَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَی الْغَنائِمِ وَاسْتَقْبَلُوْنَا بِالسِّھَامِ فَاَمَّا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَفِرَّ فَلَقَدْ رَاَیْتُہُ وَاِنّہٗ لَعَلٰی بَغْلَتِہِ الْبَیْضَآءِ وَاِنَّ اَبَاسُفْیَانَ اٰخِذٌ بِلِجَامِھَا وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ -اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ (بخاری کتاب الجھاد باب من قاددا بۃ غیرہ فی الحرب) براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ آپؓ سے کسی نے کہا کہ کیا تم لوگ جنگ حنین کے دن رسول کریمؐ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔آپؓ نے جواب میں کہا کہ رسول کریم ﷺ نہیں بھاگے۔ہوازن ایک تیرا نداز قوم تھی اور تحقیق ہم جب ان سے ملے تو ہم نے ان پر حملہ کیا اور وہ بھاگ گئے۔ان کے بھاگنے پر مسلمانوں نے ان کے اموال جمع کر نے شروع کیے لیکن ہوازن نے ہمیں مشغول دیکھ کر تیر برسانے شروع کیے پس اَور لوگ تو بھاگے مگر رسول کریم ﷺ نہ بھا گے بلکہ اس وقت میں نے دیکھا تو آپؐ اپنی سفید خچرپر سوار تھے اور ابو سفیان نے آپؐ کے خچر کی لگام پکڑی ہو ئی تھی اور آپؐ فرمارہے تھے میں نبیؐ ہوںیہ جھوٹ نہیں ہے۔میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں۔اس واقعہ کی اہمیت کے روشن کر نے کے لیے میں نے پہلے بتا یا تھا کہ بادشاہ لشکر میں سب سے زیادہ خطرہ میں ہو تا ہے کیونکہ جو نقصان بادشاہ کے قتل یا قید کر لینے سے لشکر کو پہنچتا ہے وہ کو ئی ہزار