انوارالعلوم (جلد 1) — Page 523
ہے کہ وہ خود عامل نہیںہو تے لوگوں کو کہتے ہیں مگر رسول کریمؐ خود عامل ہو کر لوگوں کو تبلیغ کر تے جس کی وجہ سے آپؐ کے کلام میں وہ تاثیر تھی کہ تئیس سال میں لا کھوں آدمیوں کو اپنے رنگ میں رنگین کر لیا۔عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہٗ کے اس قول اور شہادت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اول تو وہ ہر وقت رسول کریمؐ کی صحبت میں رہتے تھے اور جو اکثر اوقات ساتھ رہے اسے بہت سے مواقع ایسے مل سکتے ہیں کہ جن میں وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس شخص کے اخلاق کیسے ہیں۔کبھی کبھی ملنے والاتو بہت سی با تیں نظر انداز بھی کر جا تا ہے بلکہ کسی بات پر بھی یقینی شہادت نہیں دے سکتا۔لیکن جنہیں ہر وقت کی صحبت میسر ہو اور ہر مجلس میں شریک ہوں وہ خوب اچھی طرح اخلاق کا اندازہ کر سکتے ہیں پس عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہٗ ان صحابہ ؓ میں سے تھے جنہیں رسول کریمؐ کے سا تھ رہنے کا خاص موقع ملتا تھا اور جو آپؐ کے کلا م کے سننے کے نہایت شائق تھے ان کا ایسی گواہی دنیا ثابت کرتا ہے کہ درحقیقت آپؐ کو ئی ایسی شان رکھتے تھے کہ عسرویسر میں اپنے اخلاق کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ پیش کرتے تھے۔ورنہ کبھی تو آپؐ کے ہروقت کے ہم صحبتوں کو ایسا موقع بھی پیش آتا کہ جس میںآپؐ کو کسی وجہ سے چیں بہ جبیںدیکھتے لیکن ایسے موقع کا نہ ملنا ثابت کر تا ہے کہ آپؐ کے اخلاق نہایت اعلیٰ اور ارفع تھے اور کو ئی انسان ان میںنقص نہیں بتا سکتا تھا۔ایک طرف اگر عبد اللہ بن عمروؓ کی گواہی جو اعلیٰ پا یہ کے صحابہ ؓ میں سے تھے نہایت معتبر اور وزنی ہے تو دوسری طرف یہ بات بھی خاص طور سے مطالعہ کر نے کے قابل ہے کہ یہ فقرہ کس شخص کی شان میں کہا گیا ہے معمولی حیثیت کے آدمی کی نسبت اور معمولی واقعات کی بناء پر اگر اس قسم کی گواہی کسی کی نسبت دے بھی دی جا ئے تو گو اس کے اخلاق اعلیٰ سمجھے بھی جائیں مگر اس شہادت کو وہ اہمیت نہیں دی جا سکتی جو اس شہادت کو ہے اور وہ شہادت ایک معمولی انسان کے اخلاق کو ایسا روشن کرکے نہیں دکھا تی جیسی کہ یہ شہادت رسول کریم ﷺ کے اخلاق کو کیونکہ یہ اخلاق جن واقعات کی موجودگی میں دکھا ئے گئے ہیں وہ کسی اَور انسان کو پیش نہیں آتے۔دنیا میں دو قسم کے انسان ہو تے ہیں ایک وہ جو عسر میں نہایت بد خلق ہو جا تے ہیں دوسرے وہ جو یُسر میں چڑ چڑے بن جا تے ہیں۔رسول کریمؐ پر یہ دونوں حالتیں اپنے کمال کے سا تھ وارد ہو ئی ہیں اور دونوں حالتوں میں آپؐ کے اخلاق کا اعلیٰ رہنا ثابت کر تا ہے کہ کو ئی انسان آپؐ کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو تکلیفیں اور دکھ آپؐ کو پہنچے ہیں وہ اور کونسا انسان ہے جسے پہنچے ہوں مکہ کی تیرہ سالہ