انوارالعلوم (جلد 1) — Page 519
کی سب قوموں اور مذاہب سے خدا کے لیے مقابلہ کیا۔اس وقت ایک بھی ایسی قوم نہ تھی جو شرک کی مرض میں گرفتار نہ ہو۔عرب تو سینکڑوں بتوں کے پجاری تھے ہی اور مجوسی تو آگ کے آگے ناصیہ فرسا ئی کر تے ہی تھے یہود جو تو رات کے پڑھنے والے اور حضرت موسٰی کے ماننے والے تھے وہ بھی عزیرابن اللہ پکار رہے تھے اور اپنے احبار کو صفات الوہیت سے متصف یقین کر تے تھےاور ان سے بھی بڑھ کر نصاریٰ تھے جو سب سے قریب تھے۔حضرت مسیح ؑکی امت ہو کر اس قدر بڑھ گئے تھے کہ خود مسیح کو جو اللہ تعالیٰ کی پر ستش قائم کر نے آئے تھے قابل پرستش سمجھنے لگے تھے۔ہندوستان اور چین کی تو کچھ پو چھو ہی نہیں گھر گھر میں بت تھے اور شہر شہر میں مندر تھے پھر ایسی شورش کے زمانہ میں آپؐ کو توحید باری کے ثابت کر نے کے لیے کھڑا ہو جانا اور تمام قوموں کو پکار پکار کر سنانا کہ تم جس قدر معبود میرے خدا کے سوا پیش کر تے ہو سب جھوٹے اور بے ثبوت ہیں ایک ایسا کا م تھا جسے دیکھ کر عقل حیران ہو تی ہے اور جس قدر آپؐ کی اس کو شش و ہمت پرغور کیا جا ئے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ شرک سے ایسے بیزار تھے کہ ایک ساعت کے لیے بھی برداشت نہیں کرسکتےتھےکہ کو ئی خدا تعالیٰ کو چھوڑ کرکسی اَور کے سامنے اپنا سر جھکا ئے۔خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے سر شار ہوئے کہ دنیا بھر کے مذاہب اور قوموں کو اپنا دشمن بنا لیا اور یک دم سب سے اپنا قطع تعلق کر لیا اور صرف اس سے صلح رکھی جس نے لَآاِلٰہَ اِلَا اللّٰہُ کا اقرار کیا۔اس وقت جو معبود باطلہ تھے ان کے مٹانے اور اڑانے کے علاوہ آپؐ نے اپنی تعلیم میں اس بات کا التزام رکھا کہ مسلمانوں کو پوری طرح سے خبردار کیا جائے کہ آئندہ بھی کسی وجہ سے مرض شرک میں مبتلا نہ ہو جا ویں اسلام کیا ہے۔سب سے پہلے اس کا اقرار کرناکہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مسلمانوں کو دن میں پندرہ دفعہ بلند مکان پر سے یا منارہ پر سے یہ پیغام اب تک پہنچا یا جاتا ہے کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہُ پھر تمام عبادات میں خدا تعالیٰ کی وحدت کا اقرار کرایا جا تا ہے۔مسلمان تو مسلمان غیر مذاہب کےپیرو بھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ جس قدر اسلام شرک کو مٹاتا ہے اتنا اَور کوئی مذہب اس کا استیصال نہیں کر تا او ریہ کیوں ہے اسی نفرت کی وجہ سے جو آنحضرت ﷺ کو شرک سے تھی۔عمر بھر آپؐ اس مرض کے مٹانے میں لگے رہےحتیٰ کہ آپؐ نے اپنی وفات سے پہلے وہ خوشی دیکھی جواَور کسی نبی کو دیکھنی نصیب نہ ہو ئی کہ آپؐ کی سب قوم ایک خدا کو ماننے والی ہو گئی مگر پھر بھی وفات کے وقت جو خیال آپؐ کو سب سے زیا دہ تھا وہ یہی تھا کہ کہیں میرے بعدمیری قوم مجھے خدا تعالیٰ کا شریک نہ بنا ئے اور جس طرح پہلی امتوں نے اپنے انبیاء کو صفات الوہیت سے متصف