انوارالعلوم (جلد 1) — Page 499
رسول کریم ﷺ کی جائیدادنہ صرف یہ کہ رسول کریم ؐنے اپنی اولاد کو صدقہ سے محروم کر دیا بلکہ خود بھی کو ئی ایسی جائیداد نہیں چھوڑی جس سے آپؐ کے بعد آپؐ کی بیویوں اور اولاد کی پر ورش اور گزارہ کا انتظام ہوسکتا۔ممکن تھا کہ یہ خیال کر لیا جا تا کہ گو آپؐ نے اپنی آل کے لیے ہمیشہ کے لیے کو ئی سامان نہیں مہیا کیا لیکن اپنے موجودہ رشتہ داروں کے لیے کو ئی سا مان کر دیا۔لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔اور جس وقت فوت ہو ئے ہیں اس وقت آپؐ کے گھر میں کو ئی روپیہ نہیں تھا۔عمروبن حرثؓ فر ما تے ہیںمَاتَرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلیْہِ وَسلَّمَ عِنْدَ مَوْتِہٖ دِرْھَمًا وَلَا دِیْنَارًا وَلَا عَبَدًاوَلَااَمَۃًوَلَاشَیْئًا اِلَّا بَغْلَتَہُ الْبَیْضَآء وَسِلَا حَہٗ وَاَرْضًا جَعَلَھَا صَدَقَۃً (بخاری کتاب الوصایا)رسول کریم ﷺ نے اپنی وفات کے وقت کچھ نہیں چھوڑانہ کو ئی درہم نہ دینار نہ غلام نہ لونڈی اور نہ کچھ اور چیز سوائے اپنی سفید خچر اور اپنے ہتھیاروں کے اورایک زمین کے جسے آپؐ صدقہ میں دے چکے تھے۔یادرکھنا چاہیے کہ آپؐ کی حیثیت ایک بادشاہ کی تھی اور آپؐ چاہتے تو اپنے رشتہ داروں کے لیے سامان کر سکتے تھےاور کم سے کم اس قدر روپیہ چھوڑ جا نا تو آپؐ کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ جس سے آپؐ کی بیویوں اور اولاد کا گزارہ ہو سکے۔آپؐ کے پا س صرف خزانہ کا رو پیہ ہی نہ رہتا تھا کہ جس کا اپنی ذات پر خرچ کرنا آپؐ گناہ تصور فرماتے تھےاور اس کا ایک حبّہ بھی آپؐ استعمال نہیں کر تے تھے بلکہ خود آپؐ کی ذات کے لیے بھی آپؐ کے پاس بہت مال آتا تھا اور صحابہ ؓ اس اخلاص اور عشق کے سبب جو انہیں آپ سے تھا بہت سے تحائف پیش کرتے رہتےتھے اور اگر آپؐ اس خیال سے کہ میرے بعد میرے رشتہ دار کس طرح گزارہ کریں گے ایک رقم جمع کر جا تے تو کر سکتے تھے لیکن آپ ؐکے وسیع دل میں جو خدا تعالیٰ کی ہیبت اور اس کے جلال کا جلوہ گاہ تھا۔جو یقین و معرفت کا خزانہ تھا یہ دنیاوی خیال سما بھی نہیں سکتا تھا۔جو کچھ آتا آپؐ اسے غرباء میں تقسیم کر دیتے اور اپنے گھر میں کچھ بھی نہ رکھتے حتیٰ کہ آپؐ کی وفات نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کا بندہ جو دنیا سے نہیں بلکہ خدا سے تعلق رکھتا تھا دنیاوی آلائشوں سے پا ک اپنے بھیجنے والے کے پاس چلا گیا۔اَللّٰھُمَّ صِلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔رسول کریم ﷺ کی نہایت پیاری بیٹی موجود تھیں اور ان کی آگے اولاد تھی اور اولاد کی اولاد اپنی ہی اولادہو تی ہے مگر آپؐ نے نہ کو ئی مال اپنی بیویوں کے لیے چھوڑا اور نہ اولاد کے لیے۔