انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 483

کچھ کام نہ کر تا اسی طرح دن گزرتے رہے اور لوگوں نے محنت سے سامان سفر تیار کر لیا یہاں تک کہ رسول کریم ؐ اور مسلمان ایک صبح روانہ بھی ہوگئے اور ابھی میں نا تیار تھا پھر میں نےکہا کہ اب میں ایک دو دن میں تیاری کرکے آپ سے جاملوں گا۔ان کے جانے کے بعد دوسرے دن بھی میں گیا مگر بغیر تیاری کے واپس آگیا اور اسی طرح تیسرے دن بھی میرا یہی حال رہا اور ادھر لشکر جلدی جلدی آگے نکل گیا۔میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ جاؤں اور ان سے مل جاؤں اور کاش میں ایسا ہی کر تا مگر مجھ سے ایسا نہ ہو سکا۔پھر جب رسول کریمؐ کے جانے کے بعد میں باہر نکلتا اور لوگوں میں پھر تا تو مجھے یہ بات دیکھ کر سخت صدمہ ہو تا کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے یا تو وہ تھے جو منافق سمجھے جاتے تھے یا وہ ضُعَفَا ء جن کو خد انے معذور رکھا تھا۔رسول کریم ﷺنے اس وقت تک مجھے یاد نہیں کیا جب تک کہ تبوک نہ پہنچ گئے۔وہاں آپؐ نے پو چھا کہ کعب بن مالک کہاں ہے؟سلمہ کے ایک آدمی (عبداللہ بن انیس)نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ اپنے حسن وجمال (یا لباس کی خوبی) پر اترا کر رہ گیا(آپ کے سا تھ نہیں آیا)یہ سن کر معاذبن جبل ؓنے کہا تونے بری بات کہی خدا کی قسم یارسول اللہ!ہم تو اس کو سچاآدمی (سچامسلمان) سمجھتےہیں۔آنحضرتﷺخاموش ہورہے۔کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ خبر آئی کہ آنحضرت ﷺ تبوک سے لوٹے آرہے ہیں تو میرا غم تازہ ہو گیا۔جھوٹے جھوٹے خیال دل میں آنے لگے(یہ عذر کروں وہ عذرکروں)مجھ کو یہ فکر ہو ئی کعب اب کل آپؐ کے غصے سے تو کیونکر بچے گا میں نے اپنے عزیزوں میںسے جو جو عقل والے تھے ان سے بھی مشورہ لیا۔جب یہ خبر آئی کہ آپؐ مدینہ کے قریب آن پہنچے اس وقت سارے جھوٹے خیالات میرے دل سے مٹ گئے او رمیں نے یہ سمجھ لیا کہ جھوٹی با تیں بنا کر میں آپؐ کے غصے سے بچنے والا نہیں۔اب میں نے یہ ٹھان لیا(جو ہو نا ہو وہ ہو)میں تو سچ سچ کہہ دوں گا خیر صبح کے وقت آپؐ مدینہ میں داخل ہو ئے آپؐ کی عادت تھی جب سفر سے تشریف لا تے تو پہلے مسجد میں جا تے وہاں ایک دو گانہ ادا فرماتے(آپ نے مسجد میں دو گانہ ادا فرمایا)پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھے۔اب جو جو (منافق) لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے آنا شروع کیا اور لگے اپنے اپنے عذر بیان کر نے اور قَسمیں کھانے۔ایسے لوگ اسی(80) سے کچھ اوپر تھے آپؐ نے ظاہر میں ان کا عذر مان لیا ان سے بیعت لی ، ان کے واسطے دعا کی ان کے دلوں کے بھید کو خدا پر رکھا۔کعب کہتے ہیں میں بھی آیا میں نے جب آپؐ کو سلام کیا تو آپؐ مسکرائے مگر جیسے غصےمیں کو ئی آدمی مسکراتا ہے پھر فرمایا آؤ۔میں گیا۔آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا آپؐ نے پوچھا کعب تو کیوں پیچھے رہ گیا ؟تو نے تو سواری بھی