انوارالعلوم (جلد 1) — Page 451
تھے لیکن اس کا زیا دہ استعمال نہ تھا کیونکہ سا دہ زندگی کی وجہ سے آپؐ کھجور اور پا نی پر ہی کفا یت کر لیتے۔ایک صحابی ؓ یہ بھی بیان کر تے ہیں کہ ایک دفعہ آپؐ کے سامنے کدّو پکا کر رکھا گیا تو آپؐ نےاسے بہت پسند فرمایا۔ان تمام کھانوں کے ساتھ آپؐ اصل مالک کو نہ بھولتے بلکہ خدا کا نام لے کر کھانا شروع کر تے اور دا ئیں ہا تھ سے کھا تے اور اپنے آگے سے کھاتے اور جب کھا چکتے تو فرماتے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَلَا مَوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبَّنَا (بخاری کتاب الاطعمہ باب مایقول اذا فرغ من طعامہ)سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔بہت بہت تعریفیں پاک تعریفیں۔برکت والی تعریفیں۔ایسی تعریفیں کہ جو ایک دفعہ پر بس کر نے والی نہ ہوں۔جو چھوڑی نہ جاویں۔جن کی ہمیشہ عادت رہے۔اے ہمارے ربّ۔یعنی مولا تیرا شکر تو میں بہت بہت کر تا ہوں پرتو بھی مجھ پر رحم کر اور آج کے انعام پر ہی بس نہ ہوجائے بلکہ تو ہمیشہ مجھ پر انعام کرتا رہ اور میں ہمیشہ تیرا شکر کرتارہوں۔اس دعا پر غور کرو اور دیکھو کہ کھانا کھا تے وقت آپؐ کے دل میں کیا جو ش موجزن ہوں گے اور کیا کیا شکر کا دریا پھوٹ کر بَہ رہا ہوگا۔پھر اس پر بھی غور کرو کہ لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنۃٌ یعنی تمہارے لیے رسول کریمﷺ ایک بہتر سے بہتر نمونہ ہے جس کی تمہیں پیروی کر نی چاہیے۔