انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 423

کبھی کوئی اختلاف اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا۔پس اپنی آنکھ کو لوٹا، کیا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے۔دوبارہ اپنی نظر کو لوٹا کر دیکھ، تیری نظر تیری طرف تھک کر اور ماندہ ہو کر لوٹے گی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات اتفاقاً پیدا ہوگئی اور اتفاقی طور پر مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ بن گیا اور سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا خود بخود جڑ کر آپ ہی چلتی جائے اور اس کا پھرانیوالا کوئی نہ ہو۔لیکن ان کا جواب اللہ تعالیٰ ان آیات میں دیتا ہے کہ اتفاقی طور سے جڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور انتظام نہیں ہوتا بلکہ بے جوڑی ہوتی ہے۔مختلف رنگوں سے مل کر ایک تصویر بنتی ہے۔لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اس سے تصویر بن جائے گی۔اینٹوں سے مکان بنتا ہے لیکن کیا اینٹیں ایک دوسرے پر پھینک دینے سے مکان بن جائے گا۔بفرض محال اگر یہ مان لیا جائے کہ بعض واقعات اتفاقاً بھی ہو جاتے ہیں لیکن نظام عالم کو دیکھ کر کبھی کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی ہوگیا۔مانا کہ خود بخود ہی مادہ سے زمین پیدا ہوگئی اور یہ بھی مان لیا کہ اتفاقاً ہی انسان پیدا ہوگیا لیکن انسان کی خلقت پر نظر تو کرو کہ ایسی کامل پیدائش کبھی خود بخود ہو سکتی ہے۔عام طور سے دنیا میں ایک صفت کی خوبی سے اس کے صنّاع کا پتہ لگتا ہے۔ایک عمدہ تصویر کو دیکھ کر فوراً خیال ہوتا ہے کہ کسی بڑے مصوّر نے بنائی ہے۔ایک عمدہ تحریر کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے کہ کسی بڑے کاتب نے لکھی ہے اور جس قدر ربط بڑھتا جائے اسی قدر اس کے بنانے یا لکھنے والے کی خوبی اور بڑائی ذہن نشین ہوتی جاتی ہے پھر کیونکر تصور کیا جاتا ہے کہ ایسی منتظم دنیا خود بخود اور یونہی پیدا ہوگئی۔ذرا اس بات پر تو غور کرو کہ جہاں انسان میں ترقی کرنے کے قویٰ ہیں وہاں اسے اپنے خیالات کو عملی صورت میں لانے کے لئے عقل دی گئی ہے اور اس کا جسم بھی اس کے مطابق بنایا گیا ہے۔چونکہ اس کو محنت سے رزق کمانا تھا اس لئے اسے مادہ دیا کہ چل پھر کر اپنا رزق پیدا کرلے۔درخت کا رزق اگر زمین میں رکھا ہے تو اسے جڑیں دیں کہ وہ اس کے اندر سے اپنا پیٹ بھر لے۔اگر شیر کی خوراک گوشت رکھی تو اسے شکار مارنے کے لئے ناخن دئے اور گھوڑے اور بیل کے لئے گھاس کھانا مقدر کیا تو ان کو ایسی گردن دی جو جھک کر گھاس پکڑ سکے اور اگر اونٹ کے لئے درختوں کے پتے اور کانٹے مقرر کئے تو اس کی گردن بھی اونچی بنائی۔کیا یہ سب کارخانہ اتفاق سے ہوا۔کیا اتفاق نے اس بات کو معلوم کرلیا تھا کہ اونٹ کو گردن لمبی دوں اور شیر کو پنجے اور درخت کو جڑیں اور انسان کو ٹانگیں۔ہاں کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو کام خود بخود ہوگیا اس میں اس قدر انتظام رکھا گیا ہو۔پھر اگر انسان کے لئے پھیپھڑا بنایا تو اس کے لئے ہوا بھی پیدا کی۔اگر پانی پر