انوارالعلوم (جلد 1) — Page 421
کے لئے دو چیزیں پیش کرتے ہیں۔ایک تو اس بات کو کہ ہر بات کے لئے ایک قیامت کا دن مقرر ہے۔جس میں کہ اس کا فیصلہ ہوتاہے اور نیکی کا بدلہ نیک اور بدی کا بدلہ بد مل جاتا ہے۔اگر خدا نہیں تو جزا وسزا کیونکر مل رہی ہے اور جو لوگ قیامت کبریٰ کے منکر ہیں وہ دیکھ لیں کہ قیامت تو اس دنیا سے شروع ہے۔زانی کو آتشک و سوزاک ہوتا ہے۔شادی شدہ کو تو نہیں ہوتا حالانکہ دونوں ایک ہی کام کررہے ہوتے ہیں۔دوسری شہادت نفس لوامہ ہے یعنی انسان کا نفس خود ایسے گناہ پر ملامت کرتا ہے کہ یہ بات بری ہے اور گندی ہے۔دہریہ بھی زنا اور جھوٹ کو برا جانیں گے۔تکبر اور حسد کو اچھا نہ سمجھیں گے مگر کیوں؟ ان کے پاس تو کوئی شریعت نہیں۔اس لئے نہ کہ ان کا دل برا مانتا ہے اور دل اسی لئے برا مانتا ہے کہ مجھے اس فعل کی ایک حاکم اعلیٰ کی طرف سے سزا ملے گی گو وہ لفظوں میں اسے ادا نہیں کر سکتا۔اسی کی تائید میں ایک اور جگہ قرآن شریف میں ہے۔فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا (الشمس9:) اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں نیکی اور بدی کا الہام کردیا ہے۔پس نیکی بدی کا احساس خود خدا کی زبردست دلیل ہے۔اگر خدا نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک چیز کو نیک اور ایک کو بد کہا جاوے جو دل میں آئے لوگ کیا کریں۔چوتھی دلیل:۔چوتھی دلیل جو قرآن شریف سے ذات باری کے متعلق معلوم ہوتی ہے یہ ہے۔وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰی۔وَاَنَّہٗ ھُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔وَاَنَّہٗ ھُوَ اَمَاتَ وَاَحْیٰ۔وَاَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی (النجم43:-47) یعنی یہ بات ہر ایک نبی کی معرفت ہم نے پہنچا دی ہے کہ ہر ایک چیز کا انتہاء اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی جا کر ہوتا ہے اور خواہ خوشی کے واقعات ہوں یا رنج کے وہ خدا ہی کی طرف سے آتے ہیں اور موت اور حیات سب اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اس نے مردوعورت دونوں کو پیدا کیا ہے ایک چھوٹی سی چیز سے جس وقت وہ ڈالی گئی۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح متوجہ کیا ہے کہ ہر ایک فعل کا ایک فاعل ہوتا ہے اور ضرور ہے کہ ہر کام کے کرنے والا بھی کوئی ہو۔پس اس تمام کائنات پر اگر غور کرو گے تو ضرور تمہاری رہنمائی اس طرف ہوگی کہ سب اشیاء آخر جا کر ذات باری پر ختم ہوتی ہیں اور وہی انتہاء ہے تمام اشیاء کی اور اسی کے اشارے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی حالت کی طرف متوجہ کرکے فرمایا ہے کہ تمہاری پیدائش تو ایک نطفہ سے ہے اور تم تو جوں جوں پیچھے جاتے ہو اَور حقیر ہوتے جاتے ہو پھر تم کیونکر اپنے خالق ہوسکتے ہو۔جب خالق کے بغیر