انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 395

ہیں۔تو باقی خصوصیتوں کے بھی ایسے معنی ہو سکتے ہیں کہ جن میں حضرت مسیحؑ کے علاوہ دو سرے لوگ شامل ہوں)۔(اس کے ساتھ ہی حافظ روشن علی صاحب نے فرمایا )کہ اچھا آپ کی بات مان کرہی کہ قبرمیں دفن ہو ناہی حضرت مسیحؑ کی شناخت کا نشان ہے۔یہ مانا پڑے گا کہ جب تک حضرت مسیحؑ فوت نہ ہوں ان کو کوئی نہ مانے کیونکہ جب وہ رسول اللہ ﷺکی قبر میں دفن کئے جاویں گے تب تو ان کی شناخت ہوگی۔اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعوردؑچونکہ رسول الله قﷺکا خادم ہے اور نہایت مقرب خادم ہے۔اس لئے اس کو اس جنت میں جگہ ملے گی جس میں رسول اللہ ﷺ ہیں۔چنانچہ رسول الله ﷺنے فرمایا ہے کہ القبر روضة من ریاض الجنةیعنی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہو تا ہے۔(جامع العلوم کی طرف سے جو اشتہار دیا گیا ہے اس میں حافظ روشن علی صاحب نے جو حدیث بتائی تھی القبر روضة من ریاض الجنةیاس کو غلط کر کے یوں لکھا گیا ہے۔کہ حافظ صاحب نے فرمایا قبری روضة من الجنة حافظ محمد یوسف صاحب۔یہ حدیث بالکل غلط ہے۔ان الفاظ کے ساتھ میں موجود نہیں۔بلکہ حدیث یوں ہے۔مابين قبری و منبری روضه من رياض الجنة یہ کہہ کر آپ نے بہت بہت کچھ شور مچایا۔اور کہا کہ من كذب علی متعمدا فلیتبوا مقعده من النار یعنی جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں کرلے۔(حالا نکہ جو حدیث مولوی محمد یوسف صاحب نے فرمائی وہ اور حدیث تھی اور جو حافظ روشن علی صاحب نے فرمائی و ہ اور تھی چنانچہ اس کا ثبوت آگے چل کردیا جائے گا۔) حافظ روشن علی صاحب نے ان کے اس غیر مہذبانہ بر تاؤ کے جواب میں فرمایا کہ یہ حدیث ہےاور بالکل سچ ہے۔ہم سفر میں ہیں ہمارے پاس کیا میں نہیں آپ لکھ لیں ہم اس کا پورا پوراحوالہ لکھ دیں گے انشاء اللہ العزیز۔اس کے بعد جماعت طلباء اپنی خیالی فتح کا اظہار کرتے ہوئے رخصت ہوئے۔اب ان باتوں سے ناظرین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ فتح کس کی تھی۔ہمیں فتح و شکست سے کچھ غرض نہیں۔حق بتاناہمارا کام ہے۔اور ہماری خواہش ہے اگر طلباء جامع العلوم یا ان کے استادوں کو فتح کے نام سے کچھ حاصل ہوتا ہے تو وہ بیشک ڈ نکے بجائیں۔ہمیں تو وہ شکست جس میں راستی کو ملحظ رکھا گیا ہو اس فتح سے بدرجہا پیار ی ہے جس میں واقعات پر پردہ ڈالا گیا ہو۔یہ تو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یہ حدیث