انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 377

ایک تنگ رستہ جس کے اردگر و کانٹے دار جھاڑیاں ہوں جن کی شاخیں راستہ کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہوں اور اس میں کسی ایسے انسان کو گزرنا پڑے جس نے موٹا کھلاچوغہ پہنا ہوا ہو تو جس طرح یہ کوئی اپنے کپڑے سنبھال کر گزرتا ہے اور چاروں طرف احتیاط کی نگاہ ڈالتا جا تا ہے اسی طرح چاہیے کہ انسان اپنے نفس کو دنیا کی آلائشوں سے جو اسے کئی کئی طریقوں سے اپنی طرف کھینچنا جاہتی ہیں بچا تا جائے۔تب وہ متقی ہو سکتا ہے۔غرض کہ تقویٰ کا پہلا درجہ صبر ہے۔تقوی ٰکے تین درجےمگر صبر کے صرف یہی معنی نہیں کہ کوئی مر گیا تو خاموش رہیں بلکہ صبرکے تین معنے ہیں۔(۱) مصیبت پڑے تو انسان جزع فزع سے پرہیزکرے مثلا ًکوئی پیارا مرجائے تو کہہ دے مولیٰ کی چیز تھی اس نے لے لی (۲) بدیوں سے پر ہیز کرےنفس کو لگام چڑھائے رکھے۔ایسے متقی کی مثال یہ ہے کہ کوئی سوار ہو اور اس کا گھوڑا بھو کا ہو اورجس راستہ پر وہ چل رہا ہو اس کے اردگرد کھیت ہوں اور گھوڑا ان میں منہ ڈالنا چاہے اور وہ سواراس کی لگام کھینچے ر کھےتا ایسا نہ ہو کہ غیر کے کھیت کا نقصان ہو کر اس کے لئے مصیبت کا باعث ہو۔اسی طرح اس درجہ کے متقی کا کام ہے کہ نفس کے سرکش گھوڑے کو لگام دیئے رکھے۔اور اسےمحارم میں پڑنے سے بچائے رکھے (۳) پھر صبر کے معنے قناعت کے ہیں یعنی جو احسانات اور انعامات اللہ تعالیٰ کے انسان پر ہوں ان سے زیادہ کی حرص نہ کرے۔ہر قسم کی بدیوں سے رکنے والے کا نام صابر متقی ہے۔اور یہ سب سے گھٹیا درجہ ہے اس کی مثال یوں ہے کہ کسی کے ہاں کوئی مہمان جائے تو وہ جو کچھ میزبان دے وہی لیتا ہے اسی طرح ہم الله کے مہمان ہیں۔جن چیزوں کے استعمال کی اس نے اجازت دی ہے وہی استعمال کرنے کے حق دار ہیں۔یہ درجہ کوئی اتنا بڑا نہیں۔جب ایک معمولی شریف مہمان اپنے میزبان کے گھر سے خود کھانا نہیں اٹھالا تااور نہ اس کی کوئی چیز لے کر چمیت ہوتاہے تو پھر ایک مؤمن کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ خدا کا مہمان ہو کر بغیر اس کی اجازت کے اس کے حکم کے خلاف اس کی چیزوں میں دست اندازی کرے۔اگر میزبان اپنے مہمان کے سامنے کوئی کھا نالا کر رکھے اور مہمان کہے کہ نہیں مجھے پلاؤلادو، فلاں مٹھائی مجھے لادو، یا میزبان اپنے مہمان کے آگے کوئی چیز رکھ کر کسی مصلحت سے اٹھائے اور مہمان چیخنا شروع کردے تو وہ مہمان بہت برا سمجھا جائے گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دے کر پھر کسی اپنی حکمت سے واپس لے لے تو جزع و فزع نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ جزع و فزع محض بیوقوفی ہے۔پس تقویٰ کا پہلا درجہ تو ضبط ِنفس ہے۔یعنی نفس کو نا فرمانی حضرت رب العزت سے