انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 240

ہر ایک اپنی ہی سچائی کا دعوی پیش کرتا ہے۔مگر آنخضرت ﷺکے دعوی ٰکے بعد تیرہ سو برس گزر گئے ہیں کہ کسی نے آج تک نبوت کادعوی ٰ کر کے کامیابی حاصل نہیں کی۔اور آپ سے پہلے بھی تو لوگ نبوت کا دعوی ٰکرتے تھے۔اور ان میں سے بہت سے کامیاب ہوئے۔(جن کو ہم تو سچا ہی سمجھتے ہیں مگر آپ کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ کیوں بند ہو گیا۔اب کیوں کوئی کامیاب نہیں ہوتا صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہی پیشگوئی ہے کہ آپؑ خاتم النبیّن ہیں۔اب ہم اسلام کے مخالفین سے پوچھتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کیانشان ہو سکتا ہے کہ آپﷺ کے دعوے کے بعد کوئی شخص جو مدعی نبوت ہوا ہو کامیاب نہیں ہوا۔پس اس کی طرف اشارہ تھا کہ کان الله بكل شیءعلیما یعنی ہم نے آپ کو خاتم النبين بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کے بعد اب کوئی نیا نبی نہ آئے گا اور کوئی جھوٹا آدمی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرے گا کہ ہم اس کو ہلاک نہ کردیں۔چنانچہ یہ ایک تاریخی پیشگوئی ہے کہ اس کاردّ کسی سے ممکن نہیں۔اگر ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو۔مگر اس طرح نہیں کہ کسی نے دعوی کیا ہو۔او رلا کھ و و لاکھ اس کے پیرو ہو گئے۔بلکہ ایسا آدمی کہ جس نے حضرت ﷺ یا آپ سے پہلے نبیوں کی طرح کامیابی حاصل کی ہو مگر کوئی نہیں جو ایسی نظیر پیش کر سکے۔غرض قرآن شریف نے بڑے زور سے دعوی کیا ہے کہ میں تمام دنیا کے لئے آیا ہوں اور ہر زمانہ کے لئے ہوں مگر بر خلاف اس کے جیسے کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں۔دوسری کتب کا یہ دعویٰ نہیں۔اس لئے ان کا دعویٰ کرنا کہ ہم نجات سب عالم کے لئے پیش کرتے ہیں۔کسی طرح بھی درست نہیں اور ان کا کوئی اختیار نہیں کہ اپنی تعلیم غیرمذاہب کے سامنے پیش کریں۔اور جب ان کو ان کی کتب اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتیں تو ہمارے سامنے ان کا اپنی نجات کو پیش کرناہی غلط ہے۔کیونکہ ان کی بات تو انہیں تک محدود ہے اور اسلام کی نجات سب دنیاکےلئےہے۔اور چونکہ خدا تعالیٰ رب العالمین ہے۔اس لئے کی بات یہ ہے کہ اصل نجات وہی ہے جو اسلام پیش کرتاہے۔جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں میری غرض اس مضمون کو اس جگہ لکھنے سے صرف یہی ہے کہ میں بتاؤں کہ ان لوگوں کی کتب ان کو اجازت ہی نہیں دیتیں کہ یہ اپنی نجات دوسروں کے سامنے پیش کریں۔پھر ہمارا ان کا مقابلہ کیا چنانچہ میں نے ہر ایک مذہب کے متعلق الگ الگ ثابت کیا ہے کہ سوائے اسلام کے مسیحیت اور آرین مذ ہب کا غیر قوموں میں پھیلانا بالکل خلاف اصول ہے۔اور منع ہے چنانچہ اس لئے ان کا ہم سے نجات کے بارے میں بحث کرنا خلاف اصول ہے۔'