انوارالعلوم (جلد 1) — Page 189
|۱۶ : قل اننی ھدانی ربی الیٰ صراط مستقیم دینا قیما ملة ابراھیم حنیفا (سورة انعام : ۱۶۲» یعنی کہہ دے کہ خدائے تعالیٰٰ نے مجھ کو صراط مستقیم کی ہدایت کی ہے جو کہ استوار اور بے کجی کی ہے اور ابراہیمؑ کا طریقہ ہے جو اعتدال پر قائم رہنے والا انسان تھا پھر خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ قراٰنا عربیّا غیر ذی عوج لعلھم یتقون(الزمر:۲۹) الحمد اللہ الذي أنزل على عبده الكتب و لم يجعل له عوجا (سورة کہف ۲) اور پھر سوره فرقان میں فرماتا ہے وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا(الفرقان : ۶۴) یعنی ہمارے پاک بندے وہی ہیں کہ جو اپنی ایام زندگی کو جو کہ ان کو ولكم في الأرض مستقرو متاع إلى حين (البقره: ۳۷) کے حکم کے مطابق اس زمین پر گزارنے پڑتے ہیں اعتدال کے ساتھ گزارتے ہیں اور ان کی زندگی سکینت اور وقار کے ساتھ ہوتی ہے نہ تو تیزی سے کام لیتے ہیں اور نہ کمال سستی کو برتتے ہیں بلکہ تمام عمرفتنوں اور فسادوں سے بچتے رہتے ہیں اور اگر کوئی شریر جاہل ان سے بات کرتے ہیں اور جھگڑا برپا کرنا چاہتے ہیں تو وہ در گذر کر جاتے ہیں۔قرآن شریف نے گناہ کے لئے کون سے الفاظ استعمال کئے ہیںغرض کہ اول تو میں نے عقلاً ثابت کیا ہےکہ گناہ اصل میں راہ راست سے ادھر ادھر پھر جانے کا نام ہے اور پھر قرآن شریف مذہب بیان کیا ہے کہ قرآن شریف نے اس مسئلہ کو خوب حل گیا ہے چنانچہ ان آیات کے علاوہ جو میں اوپردرج کر آیا ہوں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن شریف نے جس قد ر الفاظ گناہ کیلئے استعمال کئےہیں وہ لغت عرب میں یا تو زیا دتی کے یا کمی کے معنی دیتے ہیں چنانچہ اثم کے معنوں میں کمی مفہوم ہےجیسا کہ آثمہ عربی میں اس اونٹنی کو کہتے ہیں کہ جو سست چلتی ہو اور پھر جناح بھی جھک جانے اوراعتدال کو چھوڑ دینے کو کہتے ہیں اسی طرح ذنب زیادتی کے معنے دیتا ہے اور پراعتداء اور عصیان اور افراط وغیرہ سب االفاظ زیادتی اور شدت کے معنے دیتے ہیں پس صاف معلوم ہوتاہے کہ جیسا کہ عقل انسانی چاہتی ہے قرآن شریف نے بھی گناہ کو راہ راست سے بڑھ جانے یا پیچھے رہ جانے سےتعبیر کیا ہے اور اصل پیدائش انسان کی نیکی اور تقویٰ پر رکھی ہے پس اب ہم پر کوئی اعتراض واردنہیں ہوتا کہ خدا نے گناہ کیوں پیداگیا کیونکہ خدائے تعالیٰٰ نے انسان کو چند صفات حسنہ ودیعت کرکے اسے ایک حد تک مقدرت دے دی کہ ان پر عمل کر کے مدارج ترقی حاصل کرے اب یہ اس کااپنا قصور ہے کہ ان کے پورا کرنے میں کوتاہی کرے یا اعتداء کرے۔۔