انوارالعلوم (جلد 1) — Page 168
غرض اب میں یہ ثابت کر آیا ہوں کہ پیشگوئیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک محکمات اور ایک متشابہات اور قرآن شریف کے علم کی رو سے متشابہات پر بحث نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ کثرت محکمات کی ہو تو پھر متشابہات کا ذکر کرناہٹ دھرمی ہے۔اور اس اصول پر نظر ڈالتے ہوئے حضرت اقدس ؑپر کوئی اعتراض نہیں رہتا اور پھر میں نے لکھا ہے کہ اصل تعلیم ہی سچائی کا معیار ہے۔اس پر نظر ڈالیں تو آپ کی سچائی میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔غرض یہ دو اصول ایسے ہیں کہ اگر احمدی جماعت ان کو یاد رکھے گی۔وانشاء اللہ مخالفین کے تمام اعتراضوں سے محفوظ رہے گی۔و اٰخردعونا ان الحمد للہ ربّ العٰلمین۔راقم خاکسار میرزا بشیر الدین محموراحمد )تشحيذ الا ذ ہان جون /جولانی ۱۹۰۸