انوارالعلوم (جلد 1) — Page 167
محبت کی خوبیاں بیان فرما کر دشمنوں کو بھی بھائی بھائی بنا دیا*۔غرض جو جو برائیاں اور بد اعتقادیاں مسلمانوں میں پھیل گئی تھیں ان کو دور کیا اور وہ اصل اعتقادجو قرآن و احادیث سے ثابت ہوتے تھے ان میں پھیلائے جن کو سعید روحوں نے قبول کیا۔مگر وہ چو شقی تھے ان سے متنفر ہو گئے پھراس کے بعد وو سری تعلیم جو روحانیت کے متعلق ہے ایسی دی کہ اب خدا کے فضل سے تین چار لاکھ احمدی ہیں جن میں سے اکثر صحابہؓ کے صدق کا نمونہ پھر د کھارہے ہیں۔بیسیوں میں جو دہریت کی عمیق غار میں گرے ہوئے تھے مگر حضرت اقدسؑ کی تعلیم سے متاثر ہو کر اب فنا فی اللہ ہو رہے ہیں۔سینکڑوں ہیں جو طرح طرح کے شرکوں اور بدعتوں کو چھوڑ کر خدا اور رسول کے دلداده و شیداہورہے ہیں۔وہ جنہیں اسلام کے نام سے نفرت تھی اب اس پر جان دیتے ہیں اور وہ جو ایمان کے نام سے ناواقف تھے۔اب دوسروں کو ایمان کی طرف بلاتے ہیں۔غرض تیرہ سو سال کے بعد آپ نے پھر ثابت کر دیا کہ قرآن کی تعلیم پر چل کر انسان کیا سے کیا ہو سکتا ہے۔پھر تیری تعلیم جو غیر مذاہب کے متعلق ہے وہ دی ہے کہ اب کوئی مذہب اسلام سے بڑھ کر اپنی خوبیاں بیان نہیں کر سکتا۔تمام مذاہب کی غلطیاں ثابت کر کے ان کو اسلام کی خوبیوں کا قائل کر دیا اور دشمنوں کے منہ سے وہ کلمات نکلوائے جو اسلام کی تعریف سے مملوء تھے۔براہین جیسی مدلّل کتاب لکھ کر آریوں برہمٔووں اور دہریوں کا قلع قمع کردیا۔آئینہ کمالات اسلام لکھ کرو ساوس شیطانی کر ایسا دور کیا کہ دل صاف ہو گئے۔جلسہ مذہب میں وہ تقریر کی کہ کل غیرذاہب کو اسلام کی برتری ماننی پڑی۔بشپ کو چیلنج دے کر عیسائیت کو پاش پاش کیا تو لیکھرام کو ہلاک کر کے آریوں کو سبق دیا۔غرض ان کے وجود کی برکت سے اسلام کا پاک چہرہ پھر دنیا پر مہرعالم تاب کی طرح چکا اور دوست و دشمن نے اس کی سچائی کا اقرار کیا۔یہاں تک کہ آپ کی وفات پر بہت سے مسلمانوں نے اس بات کو مانا کہ ان کا ہر ہر لفظ مردہ دلوں کے لئے مسیحائی کا کام کرتا تھا۔پس یہی کام تھا جس کے لئے وہ آئے تھے۔اور پورا کر گئے۔اور یہی تعلیم ہی ہے جو ان کی سچائی کو ثابت کرتی ہے، اور میں اگر اس کی نسبت کی قدر تفصیل سے لکھوں تو یہ ایک بڑا مضمون بن جائے گا۔اس لئے اس قدر لکھ کر ختم کرتا ہوں۔اور امید کرتاہوں کہ انشاء اللہ میں یا کوئی اور صاحب آئندہ اس معاملہ پرذر اوسع نظر ڈالیں گے۔*جس طرح نبی کرتے ہیں ورنہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ الگ جماعت بناکر تفرقہ ڈال دیا تو اسے حضرت عیسیٰؑ کا قول اور ہندو کی نبی کریمﷺ ان سے گفتگو یادکرنی چاہئے۔