انوارالعلوم (جلد 1) — Page 79
ہوتا ہے اور جس مذہب میں ان دونوں تعلقات کی نسبت تعلیم پوری ہو اس کو خدا کی طرف سے سمجھنا چاہئے اور ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب نے اس تعلیم کو پورا نہیں کیا۔حقوق اللہ کے پورا کرنے کے لئے ہم پر عبادت اور محبت الہٰی فرض کی گئی ہے اور حقوق العباد کےپورا کرنے کے لئے ہم پر حسن اخلاق اور احسان فرض کیا گیا ہے اور وہ تعلقات جو کہ اس دنیاوی زندگی میں بھی پیش آتے ہیں ان کی نسبت ایسے احکام دیئے گئے ہیں کہ جن سے نہ تو ہمارےتعلقات میں فرق آوے اور نہ خدا تعالیٰ کی کسی طرح کی نافرمانی ہو اس جگہ حقوق اللہ کا ذکر کرنا میں نہیں چاہتا کیونکہ مضمون بہت لمبا ہو جائے گا اور اس کے لکھنے کی ضرورت بھی نہیں جس کو ان کےمعلوم کرنے کی ضرورت ہو وہ شریعت اسلام سے واقفیت حاصل کرے مگر مختصر یہ کہ نمازیں پڑھواور روزہ رکھو، زکوٰۃ دو،حج کرو، خدا تعالیٰ سے محبت کرو، اس کے نبیوں سے اخلاص رکھو، ملائکہ پرایمان رکو ،زنانہ کرو، فسق و فجور سے بچو اور اسی طرح اور بہت سے احکام ہیں اور حقوق العبادمیں پہلے تو انسان کا حق خود اپنے پر ہوتا ہے اسلئے اس کے لئے حکم ہے کہ علم سیکھو اور دین کے ساتھ اپنی روزی کا خیال بھی رکھوسوال سے پرہیز کروتا کہ اخلاق پر اثر نہ پڑے پھر والدین کے تعلق کی طرف حکم ہے کہ ان کی فرمانبرداری کرو۔بیوی کے ساتھ اچھی طرح پیش آؤ پھر اولاد کی نسبت ہے کہ ان کی اچھی طرح تربیت کرو بھائیوں اور بہنوں کے لئے علم ہے کہ ان سے نیک سلوک کرو۔دوستوں سے محبت اور اخلاق برتو ،ہمسایوں کا خیال رکھو، مسافروں کی مدد کرو، غریبوں پر رحم کرو' قیدیوں کوچھڑاوٗ (بشرطیکہ ان کی اصلاح کی امید ہو ) اور گورنمنٹ کی وفاداری کرد غرضیکہ اور تعلقات جو ایک بندے کے خدا سے ہونے چاہئیں اور وہ جو کہ بندوں سے ہونے چاہئیں ان سب کو اس خوبی سےبیان کیا ہے کہ ایک بد طینت آدمی بھی اگر ان پر عمل کرے تو فرشتہ بن جائے پس یہ ایسی تعلیم ہےکہ اگر صرف اسلام میں یہی ہوتی تو بھی یہ مذہب اس قابل تھا کہ اس کی پیروی کی جاتی اور یہاں تو ایک ایسی بڑی خوبی اس میں موجود ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے بھی اسلام کا انکار کرنانہایت سخت بے شرمی ہے۔اور وہ خوبی یہ ہے کہ اسلام نے دوسرے مذاہب کی طرح الہام کے سلسلہ پر مہر نہیں لگائی بلکہ اسلام کا دعوی ہے کہ وہ جو میرے احکام پر چلے اور نیکی اور تقوی کا نہ اپنے دل میں بوئےاور اخلاص اور محبت کو خدا سے بڑھاۓ اس کو بلا امتیاز قوم اور بلاخصوصیت ملک ہر ایک زمانہ میں الہام ہو سکتا ہے اور یہ و ہر کوئی ہے جس کا مقابلہ اور کوئی مذہب نہیں کر سکتا عیسائیت ہے تو وہ الہام سے منکر۔یہودی مذہب ہے تو وہ الہام کا مخالف ہندو ہیں تو الهام کے ہونے سے مایوس اور آریہ کاگمنامی کیا ہے۔وہ تو امام کو فضول اور لغو بات قرار دیتے ہیں۔