انوارالعلوم (جلد 19) — Page 44
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۴ خوف اور امید کا درمیانی راسته وظیفہ پڑھ کر مجھ پر پھونک دیا ہے کہ میں ایک مرض میں مبتلا ہو گیا ہوں۔یہ سن کر میں نے کہا مولوی صاحب نے اگر کسی قسم کا وظیفہ پڑھ کر آپ کو مریض بنا دیا ہے تو انہوں نے یہ کیوں نہ کیا کہ اُسی قسم کا وظیفہ پڑھ کر چور کو پکڑ لیتے اور روپیہ اُس سے واپس لے لیتے۔مولوی صاحب کو انسانی زندگی میں جو اتنی قیمتی ہے کہ لاکھوں روپیہ سے بھی نہیں مل سکتی تغیر پیدا کرنے والا وظیفہ آتا تھا تو ان کے لئے یہ کونسا مشکل کام تھا کہ وہ چور کو بھی پکڑواتے اس سے اپنا روپیہ بھی لے لیتے اور ساتھ ہی کچھ ہر جانہ بھی لیتے۔اسی طرح انہوں نے اور بھی اپنے بعض لطائف سنائے جو الف لیلیٰ کے قصوں کی طرح تھے۔یہ سب خیالی باتیں ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمان اپنے اندر ایک دوسرے کی ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتے اور جہاں کہیں کسی مسلمان کو دکھ پہنچتا وہ جتھوں کی صورت میں اس کے پاس پہنچتے ، اس کے نقصان کی تلافی کرتے اور اس کے ساتھ ہمددری کا اظہار کرتے تو دشمن کبھی بھی ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھ سکتا مگر افسوس کہ وہ اپنی اصلاح کی طرف سے بالکل غافل بیٹھے ہیں اور دعوؤں پر دعوے کرتے جا رہے ہیں کہ ہم یوں کر دیں گے اور یوں کر دیں گے اور ان کے یہ دعوے بالکل اسی قسم کے ہیں جیسے جادو یا ٹو نا کرنے والوں کے ہوتے ہیں۔وہ اس راستہ کو بھول چکے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تجویز کیا تھا یعنی خوف اور رجاء کے درمیان والا راستہ۔وہ ایک ہی راستے پر چل رہے ہیں یعنی اُمید کے راستہ پر اور اس کو بھی عبور کرنے کی کوشش میں ہیں یہ تو حالت ہے اُمید کی۔اب دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مسلمان ایسے ہیں جن پر گھی طور پر خوف کی حالت طاری ہے اور وہ امید کے راستہ سے بھٹک چکے ہیں وہ لوگ کانگرس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہے ہیں اس ڈر سے کہ اگر کانگرس ہم سے ناراض ہو گئی تو خدا جانے ہم پر کون سی آفت ٹوٹ پڑے گی اور کانگرس کی مخالفت سے ہمیں کیا کیا نقصانات برداشت کرنے پڑہیں گے۔پس ایک طبقہ مسلمانوں کا ایسا ہے جو غلط خوف کی طرف جھکا ہوا ہے اور دوسرا طبقہ ایسا ہے جو غلط امیدیں لگائے بیٹھا ہے حالانکہ مومن کیلئے اللہ تعالیٰ نے جو راستہ تجویز کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر بہ یک وقت خوف و رجاء کی حالت طاری رہے۔ایک طرف اس کے دل میں دشمن کی طرف سے یہ