انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 42

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۲ خوف اور امید کا درمیانی راسته فرض کو بالکل نہ پہچانا کہ تیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرنا ان کے لئے ضروری ہے۔وہ بھول گئے اس بات کو کہ ہمارے بیسیوں بھائی بے یار و مددگار زخموں سے نڈھال پڑے ہیں ، انہوں نے نظر انداز کر دیا اس بات کو کہ ان کے سینکڑوں بھائی اپنے جلے ہوئے اور بے چھت مکانوں کے اندر درد و کرب سے کراہ رہے ہیں اور وہ نہ سوچ سکے اس بات کو کہ ان کے سینکڑوں بھائی دشمن کے ظلم و استبداد کا شکار ہونے کی وجہ سے ان کی امداد کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے صحیح اور سیدھے راستہ پر گامزن ہونے کی بجائے ٹیڑھی راہ کو اختیار کیا اور ایک کے ظلم کا بدلہ دوسرے ناکردہ گناہ سے لینا چاہا۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امرتسر کے ستم رسیدہ مسلمان یہ سمجھنے لگ گئے کہ ہمارا کوئی نہیں ہے اگر کوئی ہوتا تو ہماری خبر گیری نہ کرتا اور ہماری دادرسی نہ کرتا۔پچھلے دنوں مجھے ایک آدمی نے ایک واقعہ سنایا کہ امرتسر سے بھاگ کر آئے ہوئے دو مسلمانوں نے کسی سے کہا کہ ہم مرنے سے نہیں ڈرتے ہاں ہم اس بات سے ضرور ڈرتے ہیں کہ اگر ہم مارے گئے تو ہمارے بیوی بچے تباہ ہو جائیں گے اور ان کی رکھوالی کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔اگر پنجاب کے مسلمان امرتسر کے مظلوموں کی مدد کو پہنچتے تو ان کو یہ خیال کبھی نہ آ سکتا تھا کہ ہمارے مرنے کے بعد ہمارے بیوی بچوں کا کیا ہوگا۔مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ بجائے امرتسر کا بدلہ کسی اور جگہ کے ہندوؤں سے لینے کے جتھا در جتھا امرتسر پہنچتے اور اپنے بھائیوں کی خدمت کرتے اور ان کے مالی نقصان کو پورا کرنے کی کوشش کرتے اور انہیں تسلی دیتے تا کہ ان کے اندر قربانی کا جوش اور بھی زیادہ ہوتا اور وہ دشمن کے مقابلہ میں زیادہ دلیر اور زیادہ بہادر بن جاتے اور دنیا میں قدر ہمیشہ اُسی کی ہوتی ہے جو دشمن کا دلیری اور جرأت کے ساتھ مقابلہ کرتا ہوا مارا جائے۔بزدلی سے مرنے والے پر لوگ لعنت بھیجتے ہیں اگر مسلمان را ولپنڈی اور ملتان میں امرتسر کا بدلہ لینے کی بجائے خود چل کر امرتسر پہنچتے اور جتھوں کی صورت میں آتے ، سیالکوٹ سے آتے ، گجرات سے آتے ، جہلم سے آتے ، لائل پور سے آتے اور دوسرے تمام اضلاع سے جوق در جوق امرتسر میں پہنچ جاتے اور کہتے جنہوں نے ہمارے بھائیوں پر ظلم کیا ہے وہ آئیں اور ہمیں بھی ماریں ساتھ ہی وہ اپنے بھائیوں کی اپنے مالوں سے امداد کرتے اور ان سے کہتے یہ