انوارالعلوم (جلد 19) — Page 615
انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۱۵ پاکستان ایک اینٹ ہے اُس اسلامی عمارت کی جسے ہم۔۔۔نص ہماری تہذیب کونسی ہے مگر اب جبکہ ہمیں اس تہذیب کو قائم کرنے کا موقع مل گیا ہے، پنڈت نہرو اور ان کے ساتھی اگر ہم سے یہ سوال کریں کہ وہ کونسی تہذیب ہے جس کے لئے تم نے پاکستان مانگا تھا تو یقیناً وہ اپنے اس مطالبہ میں حق بجانب ہوں گے۔یہ ظاہر ہے کہ جس تہذیب کے بچانے کا ہم دعوی کر رہے تھے وہ ایرانی نہیں تھی ، نہ وہ پٹھانی، بلوچی ،سندھی، پنجابی یا بنگالی تہذیب تھی کیونکہ نہ ہم سارے ایرانی تھے ، نہ ہم سارے پٹھان تھے ، نہ ہم سارے بلوچی تھے، نہ ہم سارے سندھی تھے ، نہ ہم سارے پنجابی تھے اور نہ ہم سارے بنگالی تھے۔پھر وہ کیا چیز تھی جس کے لئے ہم سب لڑ رہے تھے یقیناً اسلام ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہم سب میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہے اور اسلامی تہذیب ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے قیام کا ہم میں سے ہر تی خواہشمند تھا۔اس تہذیب کے قیام کے لئے ہم نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔اب جب کہ علیحدگی ہو چکی ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے وہ غرض پوری کر لی ہے جس کے لئے ہم نے علیحدگی طلب کی تھی۔اگر ہم نے اس غرض کو پورا نہیں کیا تو دنیا ہمیں کہے گی کہ تم نے غلط دعویٰ کیا تھا در حقیقت تم اپنی ذاتی حکومت چاہتے تھے مگر نا واقف لوگوں میں جوش پیدا کرنے کیلئے تم نے اسلامی تہذیب کے نام سے شور مچادیا۔مختصر لفظوں میں میں یوں سمجھتا ہوں کہ ہماری لڑائی اس لئے نہیں تھی کہ ہم اپنے لئے گھر مانگتے تھے بلکہ ہماری لڑائی اس لئے تھی کہ اس ملک میں ہمارے آقا اور سردار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا کوئی گھر نہیں تھا ، ہم ایک زمین چاہتے تھے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زمین کہا جا سکے۔ہم ایک ملک چاہتے تھے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ملک کہا جاسکے۔ہم ایک حکومت چاہتے تھے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کہا جا سکے اور یہی اصل محرک پاکستان کے مطالبہ کا تھا۔پس انفرادی اور قومی زندگی میں اسلام کو داخل کرنا ہمارا سب سے پہلا اور اہم فرض ہے۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو یقینا ہم اپنے دعوی میں بچے نہیں سمجھے جا سکتے۔مگر اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی کبھی نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کو قائم کرنا ہے اور ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا بلند کرنا ہے۔پس پاکستان اس منزل کے حصول کیلئے یقینا ایک قدم تو ہے مگر بہر حال وہ ایک اینٹ ہے اس عمارت کی جو ہم نے ساری دنیا میں قائم کرنی ہے اور ہمارا