انوارالعلوم (جلد 19) — Page 531
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۳۱ سیر روحانی (۴) ذمہ داری ہے اُس مسلمان پر جو اپنے بیٹے کے قاتل کو نہیں بلکہ اپنی جان بچانے والے کو ، اپنے بیٹوں کی جان بچانے والے کو ، اپنی بیوی اور بچوں کی جان بچانے والے کو اپنے گھر میں پناہ دیتا ہے اور پھر اس سے غداری کرتا ہے۔صلى الله محمد رسول الله عليم سے ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نیا عہد کیا ہے ہم نے یہ اقرار کیا ہے کہ دنیا کا ہر جماعت احمدیہ کا ایک نیا عہد انسان خواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دے ہم آپ کو مرتے دم تک نہیں چھوڑیں گے۔ہم نے اس عہد کے نشان کے طور پر اپنے گھروں میں مینار کھڑا کیا اور ہم نے اقرار کیا کہ ہم صرف منہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ہم اس فتنہ عظیمہ کے زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں بچے طور پر پناہ دیں گے اور اپنی ہر چیز آپ کے لئے قربان کر دیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام نے بھی آج سے تیرہ سو سال پہلے آپ کو اپنے گھروں میں پناہ دی تھی۔دعوی نبوت کے ا کے متعلق انصار کا معاہدہ تیرھویں سال حج کے موقع پر جب اوس اور خزرج کے کئی سو آدمی مکہ آئے تو ان میں سے ، کے لوگ ایسے بھی شامل تھے جو یا تو مسلمان تھے اور یا مسلمان ہونا چاہتے تھے۔ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی ایک گھائی میں ان کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا تھے اور جو آپ سے صرف ایک سال بڑے تھے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے آدھی رات کے قریب مکہ کی ایک وادی میں جب دشمن، اسلام کے خلاف ہر قسم کے منصوبے کر رہا تھا یہ ۷ آدمی جمع ہوئے اور آپس میں بحث شروع ہوئی کہ اگر مکہ کے لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرام سے نہیں رہنے دیتے تو مدینہ کے لوگ اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔حضرت عباس نے کہا وعدے کرنے بڑے آسان ہوتے ہیں لیکن انہیں پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ہم جو کچھ وعدہ کر رہے ہیں سوچ سمجھ کر کر رہے ہیں اور ہم اس اقرار پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میرا یہ بھتیجامد بینہ چلا گیا تو تمام عرب قبائل