انوارالعلوم (جلد 19) — Page 532
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۳۲ سیر روحانی (۴) تمہارے خلاف ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ وہ مدینہ پر بھی حملہ کر دیں اس لئے تم یہ اقرار کرو کہ اگر کسی نے مدینہ پر حملہ کیا تو تم اپنی جان، مال، عزت اور آبروکوقربان کر کے اس کی حفاظت کرو گے۔انہوں نے کہا ہاں ہم اس غرض کے لئے تیار ہیں اور جوش میں جیسے ہمارے ملک کے لوگ نعرے لگاتے ہیں انہوں نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خاموش رہو اس وقت دشمن چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔اگر اسے ہمارے اس اجتماع کی خبر ہوگئی تو ممکن ہے کہ وہ ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے مگر اب ان کے دلوں میں ایمان کی چنگاری سلگ اٹھی تھی خدا کا نور ان کے دلوں میں پیدا ہو چکا تھا انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! بے شک ہم بے وطن ہیں مگر ہم آپ کی وجہ سے چُپ ہیں ورنہ آپ اجازت دیں تو ہم ابھی مکہ والوں کو اُن کی شرارت کا مزہ چکھا دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں نہیں مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت نہیں اس کے بعد انہوں نے یہ معاہدہ کیا کہ اگر کوئی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بچانے کے لئے ہم اپنی جان، مال اور عزت سب کچھ قربان کر دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر لڑائی ہوئی تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔حضرت عباس کا بھی یہی مشورہ تھا چنانچہ آخر یہی معاہدہ ہوا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر کے چلے گئے۔جنگ بدر کے موقع پر جب بدر کے موقع پر مدینہ سے باہر جنگ ہونے لگی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور انصار کا جوش اخلاص فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہماری قافلہ سے مڈبھیڑ نہیں ہو گی بلکہ مکہ کے لشکر سے ہمارا مقابلہ ہوگا۔اس پر یکے بعد دیگرے مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ بے شک جنگ کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر ہر دفعہ جب اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے بعد کوئی مہاجر بیٹھ جاتا تو آپ فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔آپ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ مہاجرین تو مشورہ دے ہی رہے ہیں اصل سوال انصار کا ہے اور انصار اس لئے چُپ تھے کہ لڑنے والے مکہ کے لوگ تھے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے یہ کہا کہ ہم مکہ والوں سے لڑنے کے لئے تیار ہیں تو شاید ہماری یہ بات