انوارالعلوم (جلد 19) — Page 498
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۹۸ سیر روحانی (۴) ہیں کہ ایک ایسا انسان آئے گا جو ثریا سے ایمان واپس لائے گا اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوای پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معتین رنگ میں ایک تشریح فرما دی تو اب ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم اس تشریح کو نظر انداز کر دیں ، ایسا کرنا ہمارے لئے کسی طرح جائز نہیں ہوسکتا۔مگر اس حدیث کے ایک اور معنے بھی ہو سکتے ہیں اور وہ یہ کہ قرآن کریم تو نجم کی نسبت هــوی کا لفظ استعمال فرماتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ مسیح ثریا کو زمین پر کھینچ لائے گا جو دشمنوں کے لئے ہلاکت اور دوستوں کے لئے ایمان لانے کا موجب ہوگا۔شیاطین پر ہمیشہ شہاب مبین گرا کرتا ہے قرآن کریم میں یہ مضمون مختلف مقامات پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔سورہ حجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّتْهَا لِلنَّظِرِينَ وَحَفِظْنَهَا مِنْ كُلِّ شَيْطنٍ رَّجِيمِ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ دال مبينه یعنی ہم نے اس دنیا میں ایک دینی نظام بھی قائم کیا ہو اہے جس طرح مادی آسمان میں تمہیں مختلف ستارے دکھائی دیتے ہیں اسی طرح اس دینی نظام میں بھی ہم نے ستارے بنائے ہیں اور اسے ہر قسم کے شیطانوں کی دست برد سے بچایا ہے اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مبين مگر جب کبھی بے دین کی کوئی روح غالب آنے لگے تو آسمان سے ایک حقیقت ظاہر کرنے والا روشن ستارہ گرتا ہے جو جھوٹ کا پول کھول دیتا ہے استَرَقَ السَّمْعَ کے معنے عام طور پر یہ کئے جاتے ہیں کہ جو آسمان کی باتیں سنتا ہے حالانکہ آسمان کی باتیں سننے کا تو حکم ہے اور پھر وہ ہوتی ہی سنانے کے لئے ہیں، اس لئے اس کے یہ معنے نہیں ہو سکتے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی دنیا میں خدا تعالیٰ کی باتوں کو بگا ڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور دنیا میں فساد واقعہ ہو جاتا ہے اُس وقت آسمان سے ایک ستارہ گرا کرتا ہے جو پھر صداقت کو دنیا میں قائم کر دیتا ہے اور بگڑی ہوئی مخلوق کو درست کر دیتا ہے۔