انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 497

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۹۷ سیر روحانی (۴) جب دنیا ظلمت اور تاریکی میں مبتلاء ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ ایک ایسے انسان کو مبعوث فرمائے گا جو ثریا سے ایمان کو واپس لے آئے گا، گویا ان معنوں کی رو سے اِذَاهَـوای تـقـلـيـب نسبت کا رنگ رکھے گا جیسے ہماری زبان میں عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ پر نالہ چلتا ہے، لیکن کیا کبھی پر نالہ چلتے کسی نے دیکھا ہے، پر نالہ نہیں چلتا پانی چلتا ہے۔یا لوگ کہتے ہیں ناک بہتا ہے آنکھیں بہتی ہیں؟ کان بہتا ہے تو کیا واقعہ میں کان بہا کرتا ہے یا ناک بہتا ہے یا آنکھیں بہتی ہیں ، آنکھوں میں سے پانی بہتا ہے ، ناک میں سے پانی بہتا ہے ، کان میں سے پانی بہتا ہے مگر کہا یہ جاتا ہے کہ آنکھ بہتی ہے یا ناک بہتا ہے یا کان بہتا ہے۔یہ تقلیب نسبت ہوتی ہے یعنی ایک چیز کی جگہ بعض دفعہ دوسری چیز کا نام لے لیتے ہیں یا کہتے ہیں یہ چیز خدا نے میرے قریب کر دی اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اُس چیز کے قریب ہو گیا۔اس نقطہ نگاہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس انسان کا ذکر کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ هَؤُلَاءِ که اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو وہ شخص اسے واپس لے آئے گا، قرآن کریم نے تقلیب نسبت کے طو پر اُس کا ان الفاظ میں ذکر کر دیا کہ ایک ستارہ اوپر سے نیچے آئے گا جیسے کان میں سوزش ہوتی ہے اور اُس کی وجہ سے رطوبت بہتی ہے تو ہم کہتے ہیں ہمارے کان بہتے ہیں حالانکہ کان نہیں بہہ رہے ہوتے ، کانوں سے رطوبت بہہ رہی ہوتی ہے اسی طرح قرآن کریم نے تو یہ فرمایا کہ وَالنَّجْمِ إِذَاهَوای آسمان سے ایک ستارہ آئے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ تشریح فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرستادہ آئے گا جو ایمان کو ثریا سے واپس لے آئے گا اور پھر قلوب کو نو رایمان سے بھر دیگا۔ایک شبہ کا ازالہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم قرآن کریم کے لفظوں کو کیوں نہ ترجیح دیں اور کیوں نہ یہ سمجھیں کہ کوئی ستارہ ہی آسمان سے گرے گا کسی خاص آدمی کی تخصیص کیوں کی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تشریح کر دی تو ہمارا فرض ہے کہ ہم قرآن کریم کے ان الفاظ کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ روشنی میں دیکھیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے