انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 25

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۵ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر قسم کے افعال حسنہ کا پایا جانا طبعی جذبات تھے جن کے پیچھے نیکی کا جذبہ نہ تھا بلکہ وہ عزت نفس کے لئے ایسا کرتے تھے اور اپنے گردو پیش کے حالات سے مجبور تھے کہ وہ ایسا کریں اور اس قوم کے بعض افراد یا بعض قبائل میں جو عیوب پائے جاتے تھے ان میں نہ کرنے والے بھی شریک تھے کیونکہ وہ ان کے عیوب کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے بلکہ ان کی تعریف کرتے تھے۔بے شک بعض لوگ خود عفت پسند بھی ہوتے تھے مگر جب ایک شاعر کسی مجلس میں کھڑے ہو کر اپنے شعر سناتا تھا جن میں اس نے یہ بیان کیا ہوتا تھا کہ میں نے فلاں کی عورت کو اغوا کر لیا یا فلاں عورت کے ساتھ میں نے یہ کیا تو چاہے مجلس میں ایک شخص خود عفیف ہوتا تھا وہ شاعر کے فعل کو کھیل سمجھتا تھا اور اس پر حیرت اور استعجاب کا اظہار نہ کرتا تھا بلکہ سن کر مسکرا دیتا تھا۔اس طرح گو وہ خود ایسے فعل کا ارتکاب نہ کرتا تھا مگر پسندیدگی کا اظہار کر کے وہ بھی ایسا کرنے والے کے ساتھ شامل ہو جاتا تھا۔سید منیر الحصنی صاحب نے جو آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کی ہے کہ وتقلبك في الشجرین مفسرین نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ آپ کے آبا و اجداد نیک تھے حالانکہ ایک مشرک کو ہم عفیف تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسے ساجد نہیں کہہ سکتے۔یوں تو زبان کے لحاظ سے ہم بتوں کو سجدہ کرنے والوں کو بھی ساجد کہہ سکتے ہیں لیکن قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس معنوں میں ہوا ہے کہ موحد ، ساجد اور رائع یعنی خدا کو سجدہ کرنے والے۔پس اس آیت میں ساجدین کے یہ معنی نہیں کہ ہم نے تجھے موحد ساجدین میں سے گزارا اگر یہ معنی کئے جائیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء واجداد خدا رسیدہ تھے تو یہ صحیح نہیں تاریخ اس کے خلاف ہے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے والدین مشرک تھے اور ابو طالب جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ محبت تھی جب وہ مرنے لگے تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ بھتیجے ! تیری باتیں تو سچی معلوم ہوتی ہیں لیکن بات یہ ہے کہ میں اپنی قوم کو نہیں چھوڑ سکتا۔پس ایک طرف ساجد کے معنی موحد کے اور دوسری طرف تواریخ اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے دادا پڑدادا موحد نہیں تھے اس لئے وہ معنی جو مفسرین کی طرف سے کئے جاتے ہیں صحیح نہیں۔درحقیقت اللہ تعالیٰ نے