انوارالعلوم (جلد 19) — Page 421
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۲۱ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی سمجھنے سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ آئین دو قسم کے ہوتے ہیں رجڈ (RIGID) اور فلیکسیل (FLEXIBLE) یعنی غیر لچکدار اور لچکدار۔غیر لچکدار قانون میں یہ کمزوری ہوتی ہے کہ اُس کو جلد جلد بدلنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن لچکدار قانون کو فوری بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ان قانونوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کپڑے کا گر تہ اور سو میٹر۔کپڑے کا بنا ہوا گر تہ بچے کے بڑھنے کے ساتھ جلدی جلدی تبدیل کرنا پڑتا ہے سو یٹر بوجہ لچکدار ہونے کے بہت دیر تک کام آتا رہتا ہے۔ایسا لچکدار قانون گو دیر تک کام دیتا ہے لیکن اس میں یہ نقص ہوتا ہے کہ وہ کبھی اپنے منبع سے بالکل دور چلا جاتا ہے اور نئی نئی تو جیہوں سے آخر اس کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔اسلام بعض حصوں میں انتہائی غیر لچکدار ہے مگر اس کی بعض تعلیمات انتہائی لچکدار ہیں اور یہ اس کا غیر معمولی امتیاز اور غیر معمولی کمال ہے کہ اس کا غیر لچکدار قانون کبھی بھی خلاف زمانہ نہیں ہوتا اور اس کا لچکدار قانون کبھی بھی ایسی شکل نہیں بدلتا کہ اپنے منبع سے بالکل کٹ جائے اس لئے اسلام ہمیشہ کے لئے قائم رہنے والا قانون ہے۔اب میں اصل سوال کو لیتا ہوں کہ آخر ایسا کس طرح ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض باتوں کا جواب ”کیوں“ اور کس طرح سے حل نہیں ہوتا بلکہ چیز کی حقیقت کو دیکھ کر حل ہوتا ہے۔اسلام کا کوئی حکم بھی ایسا نہیں جو زمانہ کی ضرورتوں سے پیچھے رہ گیا ہو خصوصاً اس زمانہ کے لحاظ سے تو اسلام کے احکام کی خوبی دوبارہ ثابت ہوگئی ہے۔طلاق ، نکاح بیوگان ، قریبی رشتہ داروں سے شادی ، شراب کے استعمال کو حرام کرنا یہ وہ چیزیں ہیں جن پر پچھلے سو سال میں شدت سے اعتراض ہوتا آیا ہے لیکن اب وہی معزز قو میں اور حکومتیں ان قانونوں کو اپنا رہی ہیں۔کثرت ازدواج پر اعتراض ہوتا ہے مگر کیا اس تازہ مصیبت کے بعد بھی مسلمانوں کی سمجھ میں اس کی حکمت نہیں آئی جب ہندوستان میں اسلام کی تبلیغی ترقی رکی تھی اُس وقت کے مسلمان اگر کثرت از دواج کے ذریعہ سے اسلامی نسل کو بڑھانا شروع کر دیتے تو آج یہ تباہی نہ آتی۔تمام قانونوں اور تمام اعمال کا خاص خاص زمانہ ہوتا ہے اُسی وقت ان کی قدر جا کر معلوم ہوتی ہے۔عقائد میں توحید کا مسئلہ لے لو۔توحید پر دنیا نے کتنے اعتراض کئے لیکن اس صدی میں کیا کوئی ملک اور کوئی قوم بھی باقی رہ گئی ہے جو تو حید کی قائل نہ ہو؟ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے