انوارالعلوم (جلد 19) — Page 422
انوارالعلوم جلد ۱۹ ۴۲۲ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی کوئی مسلمان شبہ ہی کسی طرح کر سکتا ہے کہ اسلام کے بعض قانون پرانے ہوئے ہیں۔آج سے سو سال پہلے طلاق کا قانون بھی پرانا تھا، شراب کا قانون بھی پرانا تھا ، جوئے کا قانون بھی پرانا تھا، نکاح بیوگان کا قانون بھی پرانا تھا، قریبی رشتہ داروں میں شادی بھی پرانی تھی ، اولاد میں جائداد کی تقسیم بھی پرانی تھی لیکن اب چلا چلا کر ان باتوں کو دنیا مان رہی ہے۔کیا یہ بات ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں کہ جو دو چار قابلِ اعتراض احکام رہ گئے ہیں وہ بھی اسی طرح حل ہو جائیں گے جس طرح کہ پہلے حل ہوئے۔جہاں اسلام کے کئی قانون ایسے ہیں کہ جن پر پہلے اعتراض ہوا اور اب دنیا ان پر عمل کرنے لگی ہے وہاں غیر مذاہب کا کوئی بھی حکم نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ اسلام کو اسے اپنانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔پردہ کی مثال یہاں چسپاں نہیں ہوتی اور سود کا سوال مختلف ہے کیونکہ سود لینے پر مسلمان بنکوں اور حکومتوں کے قانونی دباؤ کی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں لیکن جن غیر مسلم اقوام نے طلاق وغیرہ کے مسائل اختیار کئے ہیں وہ کسی اسلامی دباؤ کی وجہ سے نہیں ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ان سوالات کو بھی حل کر سکتے ہیں۔جب بھی مسلمانوں میں سود کے متعلق اسلامی احکام جاری کرنے کا احساس پیدا ہوا ہم یقیناً سود کو مٹا دیں گے ، ہم اسے مٹا سکتے ہیں اور اسلامی قانون کی برتری ثابت کر سکتے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ اس زمانہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قرآن کریم کی یہ آیت کہ رَبِّمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُ والوَكَانُوا مُسْلِمِينَ لے یعنی کفار کے دل میں کئی بار خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے اور اسلامی قانون کی برتری سے فائدہ اُٹھاتے۔یہ آیت اپنے اندر بڑی بھاری صداقت رکھتی ہے۔ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام ہر معاملہ میں دخل دے کر عقل انسانی کو معطل کر دیتا ہے یہ اعتراض اسلام پر ہرگز نہیں پڑتا۔اسلام تو کہتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْتَلُوا عَن اشْيَاء إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سے یعنی ہر معاملہ کے متعلق سوال نہ کیا کرو کیونکہ قرآن کریم میں ہر امر کا بیان ہو جانا تمہارے لئے تکلیف کا موجب ہوگا۔پس اسلام کا کمال صرف یہی نہیں کہ وہ ہر مسئلہ پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایک حاوی تعلیم کے باوجود بہت سی جزئیات کو مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیتا ہے تا کہ وہ اُن کے لئے قانون بنا ئیں۔اسلام کی تعلیم اس لحاظ سے مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم ہے۔