انوارالعلوم (جلد 19) — Page iv
انوار العلوم جلد ۱۹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان اور اس کی دی ہوئی توفیق سے فضل عمر فاؤنڈیشن کو سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی الصلح الموعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی حقائق و معارف سے پُر سلسلہ تصانیف بنام انوار العلوم کی انیسویں جلد ا حباب جماعت کے استفادہ کے لئے پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ انوار العلوم کی اُنیسویں جلد حضرت مصلح موعود کی ۲۷ رمئی ۱۹۴۷ء تا ۱۴ جولائی 66 ۱۹۴۸ء کی گل ۱۸ تحریرات و تقاریر پرمشتمل ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام الہی منشاء کے مطابق ۱۸۸۶ء میں قادیان سے ہوشیار پور چلہ کشی کے لئے تشریف لے گئے۔اس چلہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم پسر موعود کی خوشخبری سے نوازا۔جس کی علامات میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا۔علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔۔۔اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔اور قو میں اُس سے برکت پائیں گی۔اس مہتم بالشان پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو ایک فرزند دلبند ، گرامی ارجمند عطا فرمایا جس کے وجود باجود میں پیشگوئی کی علامات نے بڑی شان کے ساتھ ظہور فرمایا اور پھر خود حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۹۴۴ میں مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ اس پیشگوئی کا میں ہی مصداق ہوں۔حضرت مصلح موعود کو حضرت احدیت کی طرف سے علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا گیا۔