انوارالعلوم (جلد 19) — Page v
انوار العلوم جلد ۱۹ آپ تمام عمر اپنی ذہانت و فطانت سے بنی نوع انسان کی خدمت اور راہنمائی کرتے رہے۔آپ نے صرف جماعت احمدیہ کی ہی راہنمائی اور قیادت نہیں کی بلکہ اپنی خدا داد صلاحیتوں اور پیشگوئی کے الفاظ کے مطابق قوموں کی راہنمائی بھی کرتے رہے اور یوں دوسری قوموں نے بھی آپ کے وجود باجود سے برکت پائی اور اقوامِ عالم کی رستگاری کے لئے بھی آپ کوشاں رہے۔آپ کی ذہانت و فطانت اور تبحر علمی کا ایک بین ثبوت انوار العلوم کی جلدات کی صورت میں بھی ہمارے پاس موجود ہے۔انوار العلوم کی ۱۹ ویں جلد سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اصلح الموعود کی بلند پایہ علمی استعدادوں ، روحانی مرتبہ، ذہانت و فطانت، انقلاب انگیز فکری صلاحیتوں ، اولوالعزم قیادت ، اقوام عالم کی راہنمائی اور برصغیر کی تقسیم کے تاریخی موقع پر یہاں کی اقوام کی قیادت لمصل آپ کے علوم ظاہری و باطنی کے پُر ہونے کی ایک منہ بولتی تصویر اور روشن مثال ہے۔انوار العلوم کی ۱۹ ویں جلد میں ۱۸۔انقلاب آفرین تحریرات اور تقاریر شامل اشاعت ہیں۔یہ تحریرات و تقاریر تاریخ احمدیت اور تاریخ ہندوستان کے حوالہ سے انتہائی نازک اور تاریخی دور سے تعلق رکھنے والی ہیں۔یہ وہ دور ہے جب متحدہ ہندوستان پاک و ہند میں تقسیم ہوا۔جماعت احمدیہ نے تحریک پاکستان میں بھر پور عملی حصہ لیا اور پھر خدائی تقدیر کے مطابق اپنے دائمی مرکز قادیان دارالامان سے ہجرت کر کے خلافت احمد یہ پاکستان میں آگئی۔اس اہم اور تاریخی دور کی تحریرات جہاں جذبات سے پر ہیں وہاں نوزائیدہ مملکت پاکستان کے مسائل اور اُن کے حل کے بارہ میں راہنمائی کرنے والی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اہم جماعتی تقریبات کے موقع پر حضور کے ارشادات آپ کی ولولہ انگیز قیادت کے آئینہ دار ہیں۔حضرت مصلح موعود نے اس دور کی تقاریر اور مضامین میں نئی قائم ہونے والی مملکت پاکستان کے استحکام اور اُس کی ترقی اور پیش آمدہ مسائل کے حل کے لئے کئی راہنما اصول بیان فرمائے۔حضور نے پنجاب میں موجود ایک بہت بڑی قوم سکھوں سے اپیل کی کہ وہ پنجاب کے حالات کا مشاہدہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کریں جو کہ ان کے مفاد میں ہوگا۔حضرت مصلح موعود نے اس عرصہ کے دوران یعنی ۴۸۔۱۹۴۷ء میں روز نامہ الفضل میں