انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 338

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۳۸ الفضل کے اداریہ جات حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں اور بالبداہت غلط ہیں۔میں ان دونوں باتوں کو الگ الگ لیتا ہوں اور اس حد تک حقیقت پر سے پردہ اُٹھاتا ہوں جس حد تک پردہ اُٹھانا پاکستان کے لئے مضر نہیں۔بعض باتیں ایسی ہیں کہ اگر میں ظاہر کروں تو ان دونوں الزاموں کی لغویت اور بھی ظاہر ہو جائے گی لیکن میں پاکستان کی مصالح کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو بیان نہیں کروں گا اور میرے نزدیک جن لوگوں نے ” پرتاب جیسے اخبار میں یہ خبر پڑھ کر اسے سچا قرار دیا ہے، انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے مسلمان اخبار پرتاب اور ملاپ کی سپیشلوں پر ہنسی اُڑاتے چلے آئے ہیں۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اسی پرتاب کی ایک ایسی خبر جو پا لبداہت غلط ہے بغیر تحقیق کے قبول کر لی گئی ہے حالانکہ قرآن کریم میں صاف حکم موجود ہے کہ بے اعتبار لوگوں کی طرف سے جو بات اُڑائی جائے اُسے تحقیق کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہئے۔۹- شاید میں کوئی سرکاری راز ظاہر کرنے والا نہیں بنوں گا اگر میں اتنا ظاہر کر دوں کہ پاکستان اور ہندوستان یونین میں مذہبی مقامات کی حفاظت کے متعلق گفت و شنید ہو رہی ہے یہ گفت و شنید نومبر سے شروع ہے جب کہ سر ظفر اللہ خان کی منسٹری کا سوال بھی پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ سر ظفر اللہ خان ہندوستان سے باہر تھے۔اس گفت و شنید کی ابتداء بھی پاکستان کی طرف سے نہیں ہوئی کہ اس میں احمد یہ جماعت کا کوئی دخل سمجھا جائے یہ مسئلہ پہلے اشاروں اشاروں میں انڈین یونین نے چھیڑا اور پھر غالباً دسمبر میں جب کہ ابھی سر ظفر اللہ خان منسٹر مقرر نہیں ہوئے تھے انڈین یونین نے پاکستان گورنمنٹ کے سامنے اس مسئلہ کو با قاعدہ طور پر پیش کیا۔اس کا ایک حصہ اخبارات میں آچکا ہے اور وہ یہ ہے کہ ننکانہ میں جلسہ کرنے کی اجازت پاکستان گورنمنٹ سے ہندوستان یونین نے طلب کی اس کا جواب دینا پاکستان گورنمنٹ کیلئے بہت مشکل تھا۔اگر وہ اس بات کو مان لیتے تو اس وقت کے حالات کے مطابق خطرہ تھا کہ کسی سکیم کے ماتحت اس جلسہ کو حملہ کا ذریعہ بنا لیا جاتا۔جب مجھے یہ بات معلوم ہوئی تو جماعت احمدیہ نے پاکستانی حکومت کو اس مشکل سے بچانے کیلئے یہ درخواست دی کہ ہمارے سالانہ جلسہ کے دن بھی قریب ہیں ہمیں بھی قادیان میں جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے اور جو سہولتیں نکانہ میں