انوارالعلوم (جلد 19) — Page 339
الفضل کے اداریہ جات انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۳۹ سکھ مانگتے ہیں وہی سہولتیں قادیان کے جلسہ کے لئے انڈین یونین دے۔ہم نے صرف پاکستان سے ہی یہ درخواست نہ کی بلکہ انڈین یونین سے بھی یہی مطالبہ کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انڈین یونین اپنے مطالبہ پر اصرار کرنے سے باز آ گئی کیونکہ یہ بالمقابل کا مطالبہ ان کی مرضی کے مطابق نہ تھا۔اس کے بعد جماعت احمدیہ کو معلوم ہوا کہ انڈین یونین نے ننکانہ کی حفاظت کا سوال اُٹھایا ہے اور پاکستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وہاں سکھوں کو رہنے کی اجازت دے اور گوردوارہ کے ساتھ جتنی جائداد ہے وہ سکھوں کو واپس دے دی جائے ، ورنہ سکھ آپے سے باہر ہو جائیں گے جب ہمیں کسی ذریعہ سے اس مطالبہ کی خبر معلوم ہوئی تو جماعت احمدیہ نے فوراً پاکستان کے بعض حکام کو توجہ دلائی کہ اُنہیں بھی ایسا ہی مطالبہ سرہند ، قادیان اور دیگر مقامات مقدسہ کے متعلق کر دینا چاہئے اور قادیان کی طرف سے ایسا مطالبہ ہم نے تحریری طور پر پیش بھی کر دیا۔پاکستان گورنمنٹ نے دوسرے اسلامی مقدس مقامات کی بھی لسٹیں جمع کرنی شروع کیں اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے قادیان کے ساتھ تین چار اور مقدس مقامات کی لسٹ بھی اب تک تیار ہو چکی ہے اور ابھی اس لسٹ کی تیاری کا کام جاری ہے۔جب انڈین یونین اپنے مطالبہ کو باقاعدہ طور پر پیش کرے گی تو جہاں تک ہمارا علم ہے پاکستان بھی مختلف اسلامی فرقوں کے مقدس مقامات کی فہرست پیش کرے گا اور مطالبہ کرے گا کہ دونوں فریقوں کے ساتھ ایک سا سلوک ہونا چاہئے۔ظاہر ہے کہ سیاسی گفت و شنید میں اس سے زیادہ مؤثر دلیل اور کوئی نہیں ہوا کرتی۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یا تو انڈین یونین اپنے مطالبہ کو واپس لے لے گی یا وہ پھر مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے حقوق کو بھی تسلیم کرے گی جن میں سے قادیان کا مطالبہ صرف ایک جزو ہے گل نہیں ، اصل مطالبہ تمام اسلامی فرقوں کے مقدس مقامات پرمش ہوگا۔جہاں تک ہمارا علم ہے اب تک انڈین یونین کی طرف سے آخری مطالبہ اس بارہ میں نہیں ہوا اس لئے پاکستان گورنمنٹ ابھی مسلمانوں کے مطالبات کو جمع کر رہی ہے۔بجائے اس کے کہ ”پرتاب کی غلط خبر پر بعض مسلمان اخبار گھبراہٹ کا اظہار کرتے ، چاہئے یہ تھا کہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو بیدار کیا جاتا کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کے مقدس مقامات کی پاکستان حکومت کو اطلاع دیں۔اس کے بعد پاکستان حکومت ان میں سے ایسے مقامات کو منتخب مشتمل