انوارالعلوم (جلد 19) — Page 284
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۸۴ الفضل کے اداریہ جات قل هذه سَبيلَ ادْعُوا إلى اللوتد عَلى بَصِيرَةٍ أنا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي ۲۸ تو کفار سے کہہ دے کہ میرے اور تمہارے درمیان یہی فرق نہیں کہ میں سچ پر ہوں اور تم غلطی پر ہو بلکہ میرے اور تمہارے درمیان یہ بھی فرق ہے کہ تم جس چیز کو سچ قرار دے کر اس کی تائید کر رہے ہو تم نے اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر کے اور خود سوچ سمجھ کر اسے اختیار نہیں کیا لیکن میں نے اور میرے ساتھیوں نے جن عقیدوں اور جن طریقہ ہائے عمل کو اختیار کیا ہے سوچ اور سمجھ کر اور سارے پہلوؤں کا جائزہ لے کر اور ہر رنگ میں انہیں مفید پا کر اختیار کیا ہے۔یہی وہ اسلامی اصول ہے جس پر چل کر مسلمان ہمیشہ ذہنی غلامی سے آزاد رہ سکتا ہے۔ہمارا یہی فرض نہیں کہ ہم قوم کو ایک ایسے راستہ پر چلائیں جو ٹھیک ہو بلکہ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم قوم کو ایسی تربیت دیں کہ وہ خود سوچنے اور سمجھنے کی اہل ہو جائے اور پھر ہر نئے مسئلہ کو ایسے رنگ میں اس کے سامنے پیش کریں کہ وہ عمدگی اور خوبی کے ساتھ اس پر غور کر کے ایک نتیجہ پر پہنچے اور جب وہ ہمارے خیالات سے متفق ہو جائے تو ہم اس خیال کو جاری کر دیں یہی وہ اسلامی جمہوریت ہے جو دنیا کی دوسری جمہوریتوں سے مختلف ہے لیکن یہی وہ جمہوریت ہے جو ساری جمہوریتوں کے عیوب سے پاک ہے۔اچھی سے اچھی چیز کو غفلت اور گھبراہٹ کے موقع پر قوم پر ٹھونس دینا اور یہ خیال کرنا کہ ہم قوم کی خیر خواہی کر رہے ہیں کسی رنگ میں بھی قوم کے لئے مفید نہیں ہوسکتا۔اگر بعض صورتوں میں قوم کو مادی فائدہ پہنچے گا تو اس کی ذہنیت پست ہو جائے گی اور وہی اچھی غذا اس کے لئے زہر بن جائے گی اور وہ خود سوچنے کی عادت سے محروم رہ جائے گی۔ایک تندرست ہٹے کٹے انسان کے منہ میں لقمہ دینا کسی قدر بدتہذیبی کا فعل سمجھا جاتا ہے۔لقمہ بھی وہی ہوتا ہے دانت بھی وہی ہوتے ہیں لیکن دوسرے ہاتھ سے جو شاید بعض حالات میں اپنے ہاتھ سے بھی زیادہ صاف ہو وہ لقمہ کھانا ایک تندرست و توانا آدمی کے لئے کتنا گھناؤنا معلوم ہوتا ہے۔چاول کا دانہ مکھی سے زیادہ معدہ میں گڑ بڑ پیدا کر دیتا ہے۔دوسری طرف وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان سے سب مقصد حاصل ہو گئے اب ہمیں فوری طور پر کسی نئے پروگرام کے اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ، وہ بھی غلطی کرتے ہیں اگر بڑی اور اصولی باتوں کے لئے ہمیں نہ صرف خود سوچنے کی ضرورت ہے بلکہ قوم کو خو دسوچنے کا موقع دینے کی ضرورت ہے بلکہ اہم مسائل کے