انوارالعلوم (جلد 19) — Page 283
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۸۳ الفضل کے اداریہ جات ایسی مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑا کہ وہ اپنے عام محکمانہ کاموں کی طرف بھی پوری توجہ نہیں دے سکتے تھے ان کو یہ موقع میسر ہی کب آ سکتا تھا کہ وہ مسلمانوں کے لئے کسی آئندہ پروگرام پر غور کریں اور اسے قوم کے سامنے پیش کریں۔اس وجہ سے وہ لوگ جو جلد سے جلد کسی پروگرام کے بنانے کے حق میں تھے بے تاب ہو رہے تھے اور اپنی خواہشات کو پورا ہوتے نہ دیکھ کر بغاوت کی روح ان میں پیدا ہو رہی تھی۔مسلم لیگ حکومت پارٹی کو آج سے کہیں پہلے اس طبعی تقاضے کا احساس ہونا چاہئے تھا اور آج سے کہیں پہلے انہیں مسلم لیگی عہدوں کو چھوڑ دینا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے دبے ہوئے جذبات اُبھرنے لگے اور اُبھرے ہوئے جذبات مجالس میں اور اخباروں کے صفحات پر پھیلنے لگے۔یہی نظریہ وزارت کے اندر بھی اختلافات پیدا کرنے کا موجب ہوا۔وزارت کے بھی دو حصے تھے ایک حصہ تو وہ تھا جو یہ سمجھ رہا تھا کہ مسلمان آزاد ہو گئے ہیں اب آہستہ آہستہ تجربہ کے بعد وہ خود ایک ایسا پروگرام مرتب کر لیں گے جو ان کی ترقی کا موجب ہوگا۔دوسرا حصہ ایسا تھا جو ایک پروگرام پہلے سے طے کر کے لایا تھا۔وہ بضد تھا کہ اس کے پروگرام کو حکومت اپنا لے اور وہ دوسرے وزراء کے اس نظریہ سے متفق نہیں تھا کہ موجودہ شورش کے بعد ملک آرام اور اطمینان سے اپنے لئے کوئی پروگرام تجویز کر لے گا۔ہمارے نزدیک یہ دونوں نظریے بے نقص نہیں تھے اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ پیشتر اس کے کہ ملک پورے طور پر ایک نظریہ کی چھان بین کرے اور اس کے حسن و فتح سے واقف ہو جائے اور اسے اختیار کرنے یا رڈ کرنے کا فیصلہ کرے اسے قبول کر لینا ذہنی اور مادی طور پر سخت مضر ہوتا ہے۔اگر وہ نظر یہ بُرا ہے تو مادی طور پر ملک کو نقصان پہنچ جائے گا اور کسی ایک شخص کو خواہ وہ کتنا بھی بڑا ہو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملک کی غفلت میں اس پر ایک ایسا قانون ٹھونس دے جس قانون کو ابھی ملک اچھی طرح سمجھ نہیں سکا اور ذہنی طور پر اس لئے کہ اگر وہ قانون اچھا بھی ہے تب بھی ملک پر ایک ایسا قانون ٹھونسنا جس کو مُلک نے خود سوچ سمجھ کر اپنے لئے پسند نہیں کیا ، ملک کے افراد کے اندر غلامانہ ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ہمارے لئے یہی ضروری نہیں ہوتا کہ ہم اچھا کام کریں، ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ ہم اس کام کو سوچ سمجھ کر اختیار کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بیان فرماتا ہے کہ