انوارالعلوم (جلد 19) — Page 282
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۸۲ الفضل کے اداریہ جات کرتے ہیں تو امیر یہ نہیں سوچتا کہ میں اپنے مال کو خالی چھوڑے جا رہا ہوں اور غریب یہ نہیں سوچتا کہ میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں ، ڈاکوؤں نے مجھے چھیڑنا ہی کیوں ہے یہی حال پچھلے تین چار سال میں مسلمانوں کا رہا ہے انہیں یہ نظر آ گیا کہ ہماری زندگی خطرہ میں ہے۔یہ نظریہ ایک قسم کا فطری نظر یہ تھا اور فطری نظریے دلیلوں کے ماتحت نہیں ہوتے۔ماں اپنے بچہ کی آنکھوں کی طرف مذاق سے تیزی سے اُنگلی کرتی ہے تو بچہ یکدم سر پیچھے کرتا ہے اور آنکھیں بھینچ لیتا ہے۔ماں اپنے بچہ کی آنکھ نکالنا نہیں چاہتی مگر انسان کے اندر یہ طبعی جذبہ ہے کہ جب کوئی ایسی صورت پیدا ہو جس کے نتیجہ میں نقصان کا احتمال ہو تو بغیر اس بات کے سوچنے کے کہ واقعہ میں نقصان ہوگا یا نہیں انسان کا جسم اُس کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اگر فعل مذاق میں کیا گیا ہو تو اس احتیاط سے حرج کوئی نہیں ہوتا اور اگر یہ فعل نقصان پہنچانے کے لئے کیا گیا ہو تو اس پیش بندی سے خطرہ سے حفاظت ہو جاتی ہے۔اسی قسم کا ایک طبعی جذبہ تھا جو مسلمانوں کے اندر پیدا ہوا اور ان میں سے بیشتر حصہ پاکستان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گیا اب جبکہ پاکستان مل گیا ہے ملک کا ایک حصہ تو یہ کہتا ہے کہ لوجی جو چیز ملنی تھی وہ مل گئی اور یہ نہیں سوچتا کہ منفی نظر یہ گری ہوئی قوموں کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھا کرتا۔گری ہوئی قوموں کی ترقی کیلئے مثبت نظریوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ایک امیر کے لئے یہ منفی نظریہ کافی ہے کہ اس کی دولت میں زاول نہ پیدا ہو، ایک غریب کے لئے اس منفی نظریہ کے معنے ہی کوئی نہیں کہ اس کی دولت میں زوال نہ پیدا ہو، اس کے لئے یہی نظریہ کا رآمد ہو سکتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے گزارہ کیلئے آمد پیدا کرے۔پس پاکستان کے مسلمان جو تنزل کی منزلوں کو طے کر رہے ہیں ان کے لئے اب اس نظریہ کے کوئی بھی معنی نہیں کہ وہ ہندو کے ضرر سے بچ گئے ہیں وہ تو ایسی تدابیر کے محتاج ہیں جن سے وہ اپنی گرتی ہوئی حالت کو سنبھال لیں اور سنبھلی ہوئی حالت کو ترقی کی طرف لے جائیں۔پاکستان اپنی ذات میں اس نظریہ میں محد تو ضرور ہو سکتا ہے مگر وہ اس نظریہ کا قائمقام نہیں ہوسکتا۔ان حالات میں طبعی طور پر بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ ہمیں اپنے لئے ایک پروگرام مقرر کرنا چاہئے۔مسلم لیگ کے لیڈر جو اب گورنمنٹ پر قابض ہو چکے تھے انہیں