انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 6

انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر ہے جس کو پس پردہ بھی کہا جا سکتا ہے جب تک اسے مد نظر نہ رکھا جائے انسان اصل حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ منیر الحصنی صاحب شام سے آئے ہوئے ہیں اور اس وقت شام اور لبنان میں ایک تحریک پیدا ہو رہی ہے جس سے وہ متاثر ہیں اور اسی سے متاثر ہو کر انہوں نے یہ مضمون بیان کیا ہے لیکن اس امر کو میں بعد میں کسی وقت بیان کروں گا پہلے میں پس پردہ والے حصہ کو لیتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ وہ کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عرب میں کچھ عیسائی آباد ہیں اور کچھ مسلمان، عیسائی کم ہیں اور مسلمان زیادہ ہیں۔جب عربوں کا ترکوں کے ساتھ اختلاف ہوا اور عربوں نے دیکھا کہ ترک ہمیشہ ہم پر مظالم کرتے آئے ہیں اور انہوں نے ہماری آزادی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں تو ان کے اندر حریت اور آزادی کی روح بیدار ہوئی۔سیاسی طور پر جب کسی ملک میں آزادی کی روح پیدا ہوتو وہ ساری قوموں کے اتحاد کی خواہاں ہوتی ہے۔جب عربوں کے اندر آزادی کی روح پیدا ہوئی اور اُنہوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت ایک ہونا چاہا تو جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف مستقبل کے حالات پر نظر کر کے قومیں ایک نہیں ہو سکتیں بلکہ اتحاد کے لئے ماضی کی روایات پر بھی حصر کیا جاتا ہے اور پرانی باتوں کو تاریخوں سے نکال نکال کر کہا جاتا ہے کہ ہم ایک ہیں اس لئے ہمیں دشمن کے مقابلہ میں متحد ہو جانا چاہئے۔یہی تحریک ہندوستان کے لوگوں میں بھی پیدا ہوئی اور انہوں نے انگریزوں کے خلاف متحد ہونا چاہا اور اتحاد کی کوشش کی گئی۔مگر بجائے اس کے کہ ہند و مسلمانوں کے ساتھ رواداری سے پیش آتے اور ایک قوم بننے کی کوشش کرتے انہوں نے مسلمانوں کے بزرگوں کی عیب چینی شروع کر دی اور ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے اس لئے اتحاد نہ ہو سکا کیونکہ کسی قوم کے بزرگوں کی عیب چینی کرنے سے کب اتحاد ہوسکتا ہے۔جو جڑ ماضی میں اکٹھی رہی ہو اُس کی شاخیں بھی اکٹھی رہ سکتی ہیں اور اگر جڑ ہی علیحدہ ہو تو شاخیں کس طرح اکٹھی ہو سکتی ہیں۔اگر ایک قوم اپنے آپ کو الگ قرار دے دے اور دوسری الگ تو اتحاد کس طرح ہو سکتا ہے۔عرب کے متعصب عیسائی پادریوں نے جب دیکھا کہ اتحاد کی کوششیں ہو رہی ہیں تو انہوں نے اس سے ناجائز فائدہ اُٹھانا چاہا اور انہوں نے یہ