انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 7

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۷ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر کوششیں شروع کر دیں کہ عرب چاہے متحد ہو جائے لیکن عیسائیت کو غلبہ حاصل ہو جائے۔چنانچہ میں نے اسی قسم کے متعدد پادریوں کی بعض کتابیں پڑھی ہیں جن میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کے کوشش کی ہے کہ عربی زبان اصل میں اریمک یعنی آرامی زبان ہے اور اسی زبان کی مدد سے عربی زبان نے ترقی اور ارتقاء حاصل کیا ہے۔ان عیسائی مصنفین نے عربی الفاظ ار یک زبان کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کی ہے مثلاً استفعال کا لفظ ہے، انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ است اریمک لفظ ہے اور اسی سے عربوں نے استفعال بنالیا ہے یا ان اریمک لفظ ہے اور اسی سے عربوں نے انفعال بنالیا ہے حالانکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اس موضوع پر بحث فرمائی ہے حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان اپنے اندر بہت بڑا فلسفہ رکھتی ہے اور یہ فلسفہ کسی اور زبان میں نہیں پایا جاتا۔مثلاً دوسری زبانوں میں الفاظ زبان کی اصل ہیں لیکن عربی زبان میں الفاظ نہیں بلکہ حروف زبان کی اصل ہیں۔شرب عربی زبان میں پینے کو کہتے ہیں کے مگر یہ معنی شرب کے نہیں بلکہ ش ر ب کے ہیں چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ش ر ب کسی ترتیب سے عربی میں آجاویں ان کے مرکزی معنی قائم رہیں گے خواہش رب ہو، خواہ شب رہو، خواہ ربش ہو۔غرض ہر حالت میں مرکزی معنی قائم رہیں گے گویا عربی زبان میں حروف ، ترتیب حروف اور حرکات حروف کے مجموعہ سے لفظ کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔اور یہ قاعدہ ایسا ہے کہ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے جب قدیم ترین زبانوں کو دیکھا جائے تو قاعدہ ابدال کے مطابق تغییرات کے ساتھ ہزاروں ایسے الفاظ ان میں پائے جاتے ہیں جو اصل میں عربی ہیں اور چونکہ ان لفظوں کو نکال کر وہ زبانیں بالکل بے کا ر ہو جاتی ہیں اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ وہ زبانیں مستقل نہیں بلکہ عربی سے ہی متغیر ہو کر بنی ہیں لیکن انہوں نے اریک زبان کو عربی زبان پر فضلیت دینے کے لئے یہ کہہ دیا کہ عربی زبان نقل ہے ار یمک زبان کی ، جو درحقیقت یہودیوں کی زبان تھی۔دوسری تدبیر انہوں نے یہ کی کہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ عرب کے مشہور | اور اعلیٰ درجہ کے تمام شعراء عیسائی تھے۔چنانچہ اس کے ثبوت میں انہوں نے قیس اور اخطل اور دوسرے شعراء کے نام پیش کر دیئے اور کہا کہ عرب کے اعلیٰ درجہ کے شاعر سب عیسائی تھے اور انہوں نے ہی عربی زبان کو معراج کمال تک پہنچایا ہے۔گویا اس وجہ سے کہ مسلمان چاہتے