انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 214

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۱۴ الفضل کے اداریہ جات کو اس کام پر لگایا جائے گا جو نئے سرے سے پھر تجربہ کرنا شروع کرے گا۔اگر اس مجرب نسخہ پر عمل کیا جاتا کہ ہر وزیر کے ساتھ ایک نائب وزیر لگایا جاتا جس کے سپر داس وزارت کے بعض محکمے کر دئیے جاتے یا جس کے تفویض میں بعض چھوٹے کام دے دیئے جاتے تو اس نقصان کا خطرہ نہ رہتا اور مزید نوجوانوں کی تربیت ہوتی چلی جاتی اور کسی اتفاقی حادثہ یا اختلاف کی وجہ سے اگر کوئی وزیرا لگ ہو جاتا یا الگ کیا جاتا تو اس کا قائمقام فوراہی میسر آ سکتا اور نئے تجربوں میں وقت ضائع نہ ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض جگہوں پر پارلیمنٹری سیکرٹری مقرر کئے گئے ہیں لیکن پارلیمینٹری سیکرٹری اور نائب وزیر کے کاموں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔پارلیمینٹری سیکرٹری کے سپر د محکمے نہیں ہوا کرتے وہ تو ایک قسم کا پرائیویٹ سیکرٹری ہوتا ہے لیکن نائب وزیر ایک با قاعدہ وزیر ہوتا ہے اور کئی محکمے اور کئی ضروری کام اس کے سپرد ہوتے ہیں اور وزیر کی عدم موجودگی میں وزارت کا کام وہ خود کرتا ہے پارلیمنٹری سیکرٹری ایسا نہیں کر سکتا۔اگر مالی مشکلات ہوں تو وزراء کی تنخواہیں کم کی جاسکتی ہیں آخر غریبوں کے گزارے غریبانہ ہی ہو سکتے ہیں۔ہمارے ملک کی موجودہ حالت کے لحاظ سے اگر نائب وزیروں کو ایک ایک ہزار روپیہ تنخواہ دے دی جائے تو بڑی کافی ہے۔اس طرح دو ڈ پٹی کمشنروں کی تنخواہ سے ساری وزارتوں میں نائب وزیر ر کھے جاسکتے ہیں۔اگر وزراء بڑھا دیئے جائیں اور ہر وزیر کے ساتھ نائب وزیر مقرر کر دیئے جائیں تو ہر صوبہ میں اور مرکز میں بہت جلد تجربہ کار آدمی پیدا ہو جائیں گے اور تقسیم کار کی وجہ سے کام بھی اچھا ہونے لگ جائے گا۔مذکورہ بالا نقائص کی وجہ سے پاکستان کا سیاسی نظام بہت کمز ور طور پر چل رہا ہے۔بہت سے ضروری ممالک جن سے فوراً پاکستان کا تعلق قائم ہو جانا چاہئے تھا ، ان سے اب تک تعلق قائم نہیں ہوسکا اور شاید پاکستانی حکومت کے ذمہ داروں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ بعض طریقے ایسے بھی ہیں کہ بہت کم خرچ سے بیرونی ممالک سے تعلق قائم کئے جاسکتے ہیں۔اس وقت ہم تین ملکوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے پاکستان کے سیاسی تعلقات فوراً قائم ہو جانے چاہئیں تھے اور جن کی طرف سے حکومت پاکستان کو فوری توجہ دینی چاہئے تھی مگر ایسا نہیں