انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 187

انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات صحابہ صرف سات سو تھے وہ اس تیزی اور بے جگری کے ساتھ لڑتے کہ ہزاروں ہزار کا لشکر منہ کی کھا کر واپس لوٹ جانے پر مجبور ہو جاتا اور بعض دفعہ ان کے بڑے بڑے لیڈر اس جنگ میں مارے جاتے۔ا ایک دفعہ عرب کا ایک نہایت ہی بڑا لیڈر اس قسم کے حملے میں مارا گیا اور اس کی لاش خندق میں گرگئی تو مکہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ یہ ہمارا بڑا لیڈر ہے اس کی لاش ہمیں واپس کی جائے ہم اس کے بدلہ میں ہزاروں روپیہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہم نے اس مُردار کو لے کر کیا کرنا ہے تم اُس کو اٹھا کر لے جاؤ۔سر میور جیسا دشمن اسلام اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر وہ شدید حملے جو رات اور دن مکہ والوں کی طرف سے ہو رہے تھے اور جن میں مٹھی بھر اسلامی لشکر کے مقابلہ میں ان سے کئی گنا آدمی شامل ہوتے تھے جبکہ مسلمانوں کو دنوں تک نہ کھانے کا موقع ملتا تھا ، نہ سونے کا موقع ملتا تھا ، نہ بیٹھنے کا موقع ملتا تھا ان میں مکہ والوں کے ناکام رہنے کا صرف ایک سبب تھا اور وہ صحابہ کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی۔دشمن اپنے سامانوں کی فرادانی کی وجہ سے خندق کو کود کر عبور کر لیتا اور اپنی تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مسلمانوں کو دھکیل کر پیچھے لے جاتا مگر جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے پاس پہنچتا تو مسلمانوں کے اندر ایسا جوش پیدا ہو جاتا کہ وہ ما فوق الانسانیت طاقتوں کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو بچانے کے لئے اپنی جانوں سے بے پرواہ ہو کر اس طرح دشمن پر ٹوٹ پڑتے کہ باوجود کثیر التعداد ہونے کے دشمن کو بھاگنا ہی پڑتا۔اس چیز کو ایمان کہتے ہیں جو چیز اس سے کم ہے وہ ایمان نہیں وہ تمسخر ہے ، وہ دھوکا ہے وہ فریب ہے۔میں احمدیوں سے کہتا ہوں کہ جب وہ بیعت میں داخل ہوئے تھے تو انہوں نے اقرار کیا تھا کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے اور اس دنیا کے لفظ میں ان کی جانیں بھی شامل تھیں ، ان کے بچوں کی جانیں بھی شامل تھیں، ان کی بیویوں اور دوسرے گھر کی مستورات کا مستقبل بھی شامل تھا۔پس آج جبکہ باوجود ہمارے اس بیان کے کہ ہم جس حکومت کے ماتحت رہیں گے اس کے