انوارالعلوم (جلد 19) — Page 174
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۷۴ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مشرقی اور مغربی پنجاب کا تبادلہ آبادی ہم شروع سے تبادلہ آبادی کے خلاف رہے ہیں۔تبادلہ آبادی کی وجہ سے جو تباہی اور بربادی آئی ہے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی اور ابھی اس تباہی اور بربادی کا سلسلہ لمبا ہوتا چلا جا رہا ہے اور خدا ہی جانتا ہے کہ کب جا کر ختم ہوگا۔ہر آدمی جو ادھر سے اُدھر جاتا ہے وہ حقیقی یا بناوٹی مظالم کی ایک لمبی داستان دوسرے ملک میں اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ہر مجلس میں جب وہ ان مظالم کی داستان سناتا ہے تو سامعین کے چہروں کا تاثر اور اُن کی داد اسے اپنی کہانی میں مزید مبالغہ کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے یہاں تک کہ ہر نئے شہر اور ہر نئے گاؤں میں اس کی کہانی زیادہ سے زیادہ بھیانک صورت اختیار کرتی چلی جاتی ہے اور ان واقعی یا خیالی داستانوں کا نتیجہ ایک بے انتہاء بغض اور کینہ کی صورت میں لاکھوں آدمیوں کے دلوں میں پیدا ہوتا جاتا ہے جو صرف حال کو ہی مکدر نہیں کرتا بلکہ مستقبل کو بھی بھیا نک بناتا چلا جاتا ہے۔ہمارا تو اب بھی یہی خیال ہے کہ دونوں ملکوں کی آبادی کو پھر اپنے اپنے گھروں میں بسایا جائے اور اس تبادلہ آبادی کے سلسلہ کو کلیئہ روک دیا جائے۔ہمارے نزدیک یہ اب بھی ممکن ہے بشرطیکہ غیر معمولی جد و جہد اور کوشش سے کام لیا جائے لیکن جب تک خدا تعالیٰ لیڈروں کے دلوں میں یہ تحریک پیدا نہیں کرتا اور جب تک خدا تعالی بھاگنے والوں کے دلوں کو پھر دوبارہ ہمت نہیں بخشا تب تک مجبوراً دوسری تدبیروں سے کام لینا ہی پڑے گا اور تبادلہ آبادی کے کام کو کسی بہتر صورت میں سرانجام دینا ہی ہوگا۔جس وقت تبادلہ آبادی کا کام شروع ہوا ہے مغربی پنجاب میں غیر مسلم ۳۲ لاکھ کی تعداد میں بستے تھے اور مشرقی پنجاب میں ۴۴ لاکھ مسلمان تھے گویا جب کام شروع ہوا ہے اُسی وقت سے مغربی پنجاب کا کام مشرقی پنجاب کی نسبت زیادہ مشکل تھا۔دوسری مشکل یہ تھی کہ غیر مسلم اس کام کے لئے پہلے سے تیار تھے اور مسلمان اس کام