انوارالعلوم (جلد 19) — Page 147
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۷ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات سے یہی ایک میرا چا تھا اور یہ رشتہ مروت بھی آج ٹو ٹتا نظر آ رہا ہے مگر جس وقت آپ یہ خیال فرما رہے تھے کہ وفا ، محبت اور مروت کا یہ رشتہ آج ٹوٹ رہا ہے اُس وقت اللہ تعالی عرش پر کہہ رہا تھا آلیس الله بکاف عبده اے محمد ! کیا ہم اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہیں؟ دشمنوں نے بے شک اپنا پورا زور لگا دیا ہے کہ یہ رشتہ ٹوٹ جائے، انہوں نے بے شک اپنی طرف سے پوری کوششیں کی ہیں کہ یہ رشتہ محبت قطع ہو جائے مگر اے محمد ! ہم اس رشتے کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیں گے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ابو طالب کے دل کو نرم کر دیا اور وہ ابو طالب جسے قوم کی سرداری کو عزیز رکھنے کا خیال آ رہا تھا ، وہ ابو طالب جسے قوم کی لیڈری کا خیال آ رہا تھا اُس کے اندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جوش مارنے لگی اور اُس نے رفت بھری آواز میں کہا اے میرے بھتیجے ! جا اور اپنے کام میں اسی طرح لگا رہ جب تک میں زندہ ہوں اپنی طاقت کے مطابق تیرا ساتھ دوں گا۔اب دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس نازک موقع پر آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کا نمونہ دکھایا اور ابو طالب جو دنیا دار آدمی تھے اور قریب تھا کہ وہ قوم کی سرداری اور لیڈری کی طرف جھک جائیں اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل پر ایسا تصرف کیا کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مقابلہ میں قوم کی سرداری اور لیڈری کو بھی ترک کرنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا۔اس کے بعد کفار مکہ کی مخالفت اور بھی زیادہ تیز ہوگئی اور انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب ابوطالب کو ایک آخری نوٹس دینا چاہئے چنانچہ وہ ایک میدان میں جمع ہوئے اور انہوں نے اپنا ایک نمائندہ ابو طالب کی طرف بھیجا اور کہلا بھیجا کہ ہم فلاں میدان میں جمع ہیں اور یہ ہماری طرف سے آخری نوٹس ہے۔پہلے تو ہم نے صرف صلح کا نوٹس دیا تھا مگر اب ہم جنگ کا نوٹس دے رہے ہیں کہ جب تک تم محمد ( ﷺ ) کو ہمارے حوالہ نہ کر دو ہم یہاں سے ہرگز نہیں ہلیں گے ورنہ ساری قوم تمہارا اور مسلمانوں کا مقاطعہ کر دے گی۔یہ وقت پھر ابو طالب کی آزمائش اور امتحان کا وقت تھا اور اس نوٹس میں صرف یہی نہیں کہا گیا تھا کہ تمہاری قوم تمہیں چھوڑ دے گی بلکہ یہ دھمکی بھی دی گئی تھی کہ قوم تمہارا مقاطعہ کر دے گی گویا یہ آخری پتھر تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رستہ میں ڈالا گیا مگر خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو اِ دھرا بوطالب