انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 146

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴۶ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات الله بھی تکلیف دہ ہو۔تو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہہ ، ان کے بزرگوں کو شر البريه اور ان کے معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وَقُودُ النَّار رکھا ہے اور خود ان کو رجس اور پلید کہا ہے اس لئے میں محض تمہاری خیر خواہی کے لئے تمہیں یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اس دشنام دہی سے باز آ جاؤ ورنہ میں اکیلا ساری قوم کے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا۔ساری قوم کے رؤساء وفد کی صورت میں میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے مجھے کہا ہے کہ اب دو رستوں میں سے کوئی سا رستہ اپنے لئے تجویز کر لو۔یا تو محمد ( ﷺ سے کہو کہ وہ ہمارے بتوں کو گالیاں نہ دیا کرے اور یا پھر اس کی حفاظت سے دستبردار ہو جاؤ اس لئے اے میرے بھتیجے! یہ موقع میرے لئے نہایت نازک ہے اور میرے لئے اپنی قوم کو چھوڑنا مشکل ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابوطالب کی یہ باتیں سنیں تو آپ نے محسوس کیا کہ جس شخص نے میرے لئے آج تک اتنی تکلیفیں اُٹھائی ہیں اور جس نے میرے ساتھ وفا کے عہد کئے ہوئے ہیں یہ تعلقات آج ٹوٹتے نظر آ رہے ہیں اور دنیوی اسباب کے لحاظ سے میرا یہ سہارا بھی مخالفت کے بوجھ کے نیچے دب رہا ہے۔چنانچہ ان باتوں کا خیال کر کے آپ چشم پر آب ہو گئے اور فرمایا اے چچا ! میں نے ان لوگوں کے بتوں کے حق میں جو کچھ کہا ہے وہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہارِ حقیقت ہے اور میں اسی کام کے لئے دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں کہ ان لوگوں کی خرابیاں ان پر ظاہر کر کے انہیں راہ راست کی طرف بلاؤں۔پس میں کسی مخالفت یا موت کے ڈر سے حق کے اظہار سے رُک نہیں سکتا میری زندگی تو اس کام کیلئے وقف ہو چکی ہے اس لئے اے چچا ! میں آپ کے اور آپ کی قوم کے درمیان کھڑا نہیں ہونا چاہتا اگر آپ کو کسی تکلیف یا اپنی کمزوری کا خیال ہے تو میں آپ کو بخوشی اجازت دیتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جائیں۔باقی رہا احکام الہی کو ان لوگوں تک پہنچانے کا سوال تو میں اس کام سے کبھی رُک نہیں سکتا خواہ میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی لا کر رکھ دیں تب بھی میں اپنے اس فریضہ کی ادائیگی سے باز نہیں رہ سکتا 19 یہ باتیں کہتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رقت کی سی حالت طاری تھی اور آپ یہ خیال فرما رہے تھے کہ میرے ساتھ وفا اور محبت کرنے والا میرے رشتہ داروں میں