انوارالعلوم (جلد 19) — Page 61
انوار العلوم جلد ۱۹ صلى الله ۶۱ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں منا ئیں۔آپ نے منع بھی کر دیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کر دیا۔ہمیں یہ کتنا شاندار اور عظیم الشان طریق نظر آتا ہے جو اتنے نازک وقت میں آپ نے اختیار کیا حالانکہ ایسے وقت میں جبکہ عزیز اور قریبی رشتہ دار مارے جا چکے ہوں خود کوئی شخص زخمی ہو اور مستقبل قریب کے ایام میں خطرہ محسوس ہورہا ہو تو کوئی شخص اس قسم کا نمونہ پیش نہیں کر سکتا جو آپ نے کیا۔پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ اُحد میں زخمی ہو گئے اور آپ بے ہوش ہو کر گر گئے یہاں تک کہ آپ کی وفات کی خبر مشہور ہو گئی۔آپ نے ہوش آنے پر اخلاق فاضلہ کا جو مظاہرہ کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔آپ کے ان اخلاق فاضلہ کا ذکر جو آپ نے جنگ احد میں بے ہوشی کے بعد ہوش آنے پر دکھائے حضرت عمرؓ نے آپ کی وفات کے بعد ان الفاظ میں کیا تھا کہ يَا رَسُولَ الله میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کفار نے آپ کے دانت شہید کر دیئے ، انہوں نے آپ کے منہ کو زخمی کر دیا، آپ کے اوپر سے پیر رکھتے ہوئے گزرے گئے اور آپ کو اور آپ کے عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں اور آپ کے دوستوں کو انہوں نے انتہائی تکالیف پہنچائیں مگر يَا رَسُولَ الله ل ل ا للہ آپ نے ان کی ان ساری باتوں کے جواب میں صرف یہی فرمایا که اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ = کہ اے خدا! میری قوم کو بخش دے کیونکہ یہ مجھے پہچان نہیں سکی۔گویا ان دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں جبکہ آپ بے ہوشی سے ہوش میں آ رہے تھے آپ کے منہ سے دشمنوں کے حق میں دعا نکل رہی تھی کہ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيَ فَإِنَّهُمُ لَا يَعْلَمُونَ اے خدا ! ان کو میرے مقام کا پتہ نہیں ہے اور یہ مجھے شناخت نہیں کر سکے اس لئے تو ان کو بخش دے۔اگر یہ مجھے پہچان لیتے تو کیوں اس طرح کرتے۔یہ کیسے اعلیٰ اخلاق تھے جو آپ نے دکھائے اور کس طرح قدم قدم پر آپ نے وہ نمونہ پیش کیا جو بنی نوع انسان میں سے نہ کوئی پیش کر سکا اور نہ کر سکے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک ٹوٹ جانا یا آپ کو دوسری تکالیف کا پہنچنا ایک وقتی بات تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِىَ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ قیامت تک یاد گار رہے گا اور قیامت تک مسلمان اپنے پیارے اور محبوب کے اس فقرہ کے ساتھ آپ کو بُرا کہنے والے دشمن پر اتمام حجت کرتے رہیں گے اور کہیں گے کہ کچھ تو خیال کرو آخر تم کس کو بُرا کہہ رہے ہو؟ کیا تم اُس کو بُرا کہہ رہے ہو جس