انوارالعلوم (جلد 19) — Page 48
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۸ خوف اور امید کا درمیانی راستہ احتیاط کی بھی سخت ضرورت ہے مگر مسلمان کہتے ہیں دیکھا جائے گا۔آجکل کے مسلمان دونوں حدود کے سر پر پہنچے ہوئے ہیں حالانکہ اصل طریق جو ان کو اختیار رکرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ خوف اور امید کی درمیانی راہ تلاش کریں اور خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں اور محمد رسول اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی تجویزوں پر عمل کریں۔ایک طرف انہیں انتہا درجہ کی تنظیم کرنی چاہئے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ پر کامل یقین رکھنا چاہئے کیونکہ مؤمن وہی ہوتا ہے جو ایک طرف تدبیر بھی کرتا ہے اور دوسری طرف تقدیر پر بھی ایمان رکھتا ہے جب یہ دونوں حالتیں اس کے اندر بہ یک وقت جمع ہو جاتی ہیں تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے اس پر کھل جاتے ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ کہتا ہے میں نے اپنے بندے کو دو حکم دیئے تھے اور میرے بندے نے دونوں حکم مانے ہیں میں نے اس کو تد بیر کرنے کا حکم دیا تھا اس پر اس نے عمل کیا ہے اور میں نے اس کو تقدیر پر ایمان لانے کو کہا تھا اس پر بھی اس نے عمل کیا ہے اس لئے اب میں نے بھی اپنے اوپر فرض کر لیا ہے کہ میں اپنے فرمانبردار بندے کی اعانت کروں اور اس کے دشمن کے منصوبوں کو خاک میں ملا کر رکھ دوں۔اور اگر مسلمان ان باتوں پر عمل پیرا نہیں ہوں گے تو خدا تعالیٰ کہے گا تم نے اپنے نفس کا حکم مانا ہے اگر تم میرے متبعین میں سے ہوتے تو کسی دوسرے کی بات کیوں مانتے اس لئے جاؤ میں تمہاری کوئی امداد نہیں کروں گا۔الفضل قادیان ۷ ارجون ۱۹۴۷ ء ) صلى الله بخاری کتاب فضائل اصحاب النبى علم باب مناقب المهاجرين وفضلهم التوبة: ۴۰ بخاری کتاب الجهاد باب الحراسة في الغزو بخاری کتاب الادب باب حسن الخلق و السخاء (الخ) مسلم كتاب الجهاد باب غزوة حنين سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۲۷۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء