انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 473

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۷۳ آسمانی تقدیر کے ظہور کیلئے زمینی جد و جہد بھی ضروری ہے شامل ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں مل کر کامیابی کو اس کی انتہائی منزل تک لے جاتی ہیں۔پس بے شک خدا کی تقدیر یہی ہے کہ اسلام غالب ہو، خدا کی تقدیر یہی ہے کہ احمدیت غالب ہو، مگر جب تک فارّ التَّنُّورُ والا نظارہ نظر نہ آئے ، جب تک زمین کے چشمے بھی نہ پھوٹ پڑیں، جب تک ہماری کوششیں بھی خدائی تقدیر کی تائید نہ کرنے لگیں اُس وقت تک خدا تعالیٰ کی مشیت نہیں چاہتی کہ وہ اپنی تقدیر نازل کرے کیونکہ جہاں وہ اپنے نفس کے متعلق غیرت رکھتا ہے وہاں وہ اپنے بندوں کے لئے بھی غیرت مند ہے وہ چاہتا ہے کہ میں کام تو کروں مگر اس میں بندے کا بھی دخل ہو تا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت انسان کہہ سکے کہ میرا خدا بڑا مہربان ہے اُس نے مجھے بھی توفیق دی کہ میں اس کے دین کی خدمت کروں اور پھر اس نے اپنے فضل سے اس خدمت کو سراہا اور مجھے اپنے قرب کا انعام بخشا۔غرض خدا تعالیٰ کی مشیت اور اُس کی قدرت میں محبہ نہیں۔متواتر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ایسی خبریں دی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دن گو مصائب اور مشکلات کے ہیں مگر آخر یہ دن کٹیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے فتوحات کا دروازہ ہمارے لئے کھولا جائے گا۔آج رات ہی ( یعنی رات کے شروع حصہ میں ) میں نے ایک نہایت مبشر خواب دیکھا۔جا گا تو وہ خواب مجھے یاد تھا میں اُس سے لطف اُٹھاتا رہا مگر دوبارہ سونے کے بعد جب صبح اٹھا تو وہ خواب مجھے بھول گیا۔صرف اتنا حصہ یاد ہے کہ ڈلہوزی یا اس کے قریب کا کوئی مقام ہے وہاں ہم ہیں اور اُس جگہ ہم نے کوئی بات شروع کی ہے آنکھ کھلنے پر سب باتیں مجھے یاد تھیں مگر جب میں دوبارہ سویا اور سوکر اُٹھا تو وہ باتیں مجھے بھول گئیں لیکن بہر حال وہ مبارک با تیں تھیں۔اس کے بعد صبح میں نے دیکھا کہ گویا میں قادیان میں ہوں۔وہ چوک جو مسجد مبارک کے سامنے ہے میں نے دیکھا کہ اُس میں کچھ سکھ سوار ہیں اور اُن کے پاس رائفلیں بھی ہیں وہ گھوڑوں پر ہیں یا اونٹوں پر اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو قادیان کے مشرقی یعنی دارالا نوار کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔مشرق کی طرف دار الانوار اور پرانے قادیان کے درمیان جو علاقہ ابھی خالی ہے اُس پر ہوتے ہوئے میں نے دیکھا کہ