انوارالعلوم (جلد 19) — Page 472
انوار العلوم جلد ۱۹ آسمانی تقدیر کے ظہور کیلئے زمینی جدو جہد بھی ضروری ہے ہوتے ہیں جو نیک مقاصد اور نیک ارادوں کے ساتھ کئے جائیں۔یہ چھوٹا سا اجتماع جس میں چند سو آدمی جمع ہوئے ہیں یا وہ اجتماع بھی جو قادیان میں ہوا کرتا تھا اور جس میں تمہیں تمھیں چالیس چالیس ہزار آدمی جمع ہوا کرتا تھا دنیا کی آبادی کے لحاظ سے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔دنیا کی موجودہ آبادی دو ارب کے قریب ہے اس دو ارب کی آبادی میں سے تمہیں چالیس ہزار کے قریب لوگوں کا کہیں جمع ہو جانا کونسی بڑی بات ہے۔ہمارے سامنے دنیا کے قلوب فتح کرنا ہے اور اس کام کے لئے ہی ہم ہر سال جلسے کرتے ہیں ، شوری کرتے ہیں اور مختلف اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم کسی سرعت رفتار سے اس مقصد کے حصول کیلئے بڑھ رہے ہیں۔اگر تو وہ رفتار ایسی ہے جس سے معقول طور پر معقول زمانہ میں اسلام اور احمدیت کو دنیا میں کامیابی حاصل ہو جائے تو الحَمدُ للہ بڑی اچھی بات ہے لیکن اگر ہماری رفتار اتنی سست ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہمیں صدیوں کا انتظار کرنا پڑے تب کہیں کامیابی حاصل ہو تو یہ نہایت افسوس اور رنج کی بات ہے۔پس ہماری جماعت کو صرف جلسوں اور اجلاسوں پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ مؤمنانہ جوش اور مؤمنانہ اخلاص اور مؤمنانہ قربانی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت اور تبلیغ اور اشاعت حق کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے وہ تو مقدر ہی ہے مگر خدا تعالیٰ کی تقدیر بھی بندہ کی تدبیر سے مل کر کام کیا کرتی ہے۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے اور قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ حضرت نوقح کے زمانہ میں جب با وجود تبلیغوں اور تدبیروں کے اُس زمانہ کی بھیجی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی صداقت کی کامیابی کی کوئی صورت نہ نکلی تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے عذاب نازل فرمایا۔مگر فرماتا ہے ہم نے آسمان سے بھی پانی برسایا اور زمین سے بھی سوتے پھوٹ پڑے اس طرح دونوں نے مل کر دنیا میں تباہی مچادی اور دنیا صرف نوح اور اُس کے ماننے والوں پر مشتمل رہ گئی تو آسمانی تقدیر کے ظہور کیلئے زمینی جدوجہد کی ضرورت بھی ہوا کرتی ہے۔یہ تمثیل خدا تعالیٰ نے یونہی بیان نہیں کی کہ ہم نے آسمان سے بھی پانی برسایا اور زمین سے بھی پانی پھوٹ پڑا بلکہ یہ تمثیل اس حقیقت کے اظہار کے لئے بیان کی گئی ہے کہ جب تقدیر نازل ہوتی ہے تو اُس کے ساتھ بندے کی تدبیر کا