انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 427

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۲۷ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی نہیں لی۔فتوحات کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا یہ زمین مہاجرین کے پاس رہنے دو یا اپنی نصف ان کو دے دو اور یہاں سے نصف لے لو۔صاف ظاہر ہے کہ یہ معاملہ بالکل جدا گانہ ہے، یہ انصار کے شک کو دور کرنے کے لئے تھا اور اس میں کیا شک ہے کہ حکومت کا مال غرباء کے پاس جانا چاہئے۔انصار نے جواب دیا کہ ہم دونوں باتوں پر راضی نہیں ہم یہ چاہتے ہیں کہ نئی آمدہ زمین مہاجرین کو ہی دی جائے اور ہماری زمین کا نصف بھی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ کیا۔مساوات رکھنے کا اسلامی نظام (۱) زکوۃ (۲) سود کی ممانعت (۳) ورثہ (۴) برتھ کنٹرول کی ممانعت (۵) بھاؤ بڑھانے یا گھٹانے کو ناجائز قرار دیا۔(۶) سادہ زندگی خوراک، لباس، رہائش اور زیور میں تمام افراد کا کھانا کپڑا اور مکان حکومت کے ذمہ ہے۔حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی قانون کے غلط استعمال پر اس قانون میں جزوی تبدیلی عارضی طور پر کر دے چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایک وقت میں تین طلاق دینے والے کی تین طلاقوں کو تین ہی قرار دینے کا فیصلہ فرمایا حالانکہ اصل میں وہ تین نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔آپ کی غرض شریعت کی حد بندیوں کو توڑنے والے کو سزا دینا تھی۔اسلامی احکام کی خصوصیات عورت کے حقوق ، اولاد کے حقوق ، عوام کے حقوق ، ملازموں کے حقوق ، مجرموں کے حقوق، مساوات انسانی اور بین الاقوامی تعلقات پر روشنی ڈالی ہے دوسری شرائع اس بارہ میں خاموش ہیں۔اسلام کے بعض اہم مسائل جن پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ا۔زنا کی سزا رجم بہت سخت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس سزا کا ذکر نہیں قرآن کریم الزَّانِيَةُ والزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةً جندة الازانی مرد یا زانی عورت کو سو کوڑے لگاؤ اور جو جھوٹا الزام لگائے اُسے ۸۰ کوڑے لگاؤ ان دونوں حکموں کے بعد فرماتا ہے اِنَّ الَّذينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ في الذين امنوا لهم عذاب اليم» في الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَ اللهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لا تعلمون کا پس یہ سو کوڑے بھی فحش کی سزا ہیں ظاہر ہے کہ جو اس طرح زنا کرے گا کہ